یمن میں دوبارہ لڑائی چھڑنے کے بعد امن مذاکرات ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ نے یمن میں دوبارہ لڑائی چھڑنے کے بعد متحارب فریقوں کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں جاری امن مذاکرات ختم کردیے ہیں۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد ایک نیوز کانفرنس کرنے والے تھے۔یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت اور سابق صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی ملیشیا کے نمائندوں کے درمیان گذشتہ منگل سے سوئس گاؤں میکولین میں مذاکرات جاری تھے اور اسی روز متحارب فریقوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔

یمنی فوج اور حوثی ملیشیا کے درمیان ہفتے کے روز سعودی عرب کی سرحد کے نزدیک واقع صوبے حجہ میں دوبارہ لڑائی چھڑ گئی تھی اور سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔

یمن کے سکیورٹی حکام اور عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ہادی حکومت کی وفادار فورسز اور حوثی ملیشیا کے درمیان جھڑپوں میں گذشتہ تین روز میں 75 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور اس لڑائی کے پیش نظر اقوام متحدہ نے متحارب فریقوں کے درمیان امن مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ان مذاکرات کے دوران جنگ زدہ وسطی شہر تعز میں فریقین نے انسانی امدادی سامان بہم پہنچانے سے اتفاق کیا تھا۔اب یہ واضح نہیں ہے کہ اس سمجھوتے پر کیسے عمل درآمد کیا جائے گا اور اقوام متحدہ کی جانب سے تعز میں بھیجے گئے امدادی سامان کو کیسے تقسیم کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں