داعش کے جنگجوؤں نے ہزاروں خالی پاسپورٹس چُرا لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو تنظیم داعش نے ہزاروں خالی پاسپورٹس چُرا لیے ہیں اور وہ ان کو اپنے جنگجوؤں کو یورپ میں اسمگل کرنے کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔

جرمن روزنامے ویلٹ ایم سونتاگ نے اتوار کو شائع شدہ ایک رپورٹ میں مغربی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے اور لکھا ہے کہ داعش نے شام ،عراق اور لیبیا میں اپنے زیر قبضہ علاقوں سے یہ سفری دستاویزات چرائی ہوں گی۔

اخبار نے لکھا ہے کہ یہ پاسپورٹس یورپی یونین کے رکن ممالک میں ممکنہ حملہ آوروں کو پناہ گزین کے طور پر داخل ہونے کے لیے جاری کیے جاسکتے ہیں۔اس کے علاوہ داعش نے رقوم اینٹھنے کے لیے جعلی دستاویزات کو بیچنے کا پہلے ہی سلسلہ شروع کررکھا ہے اور وہ ایک جعلی پاسپورٹ کو 1500 یورو (6130 ڈالرز) کے عوض فروخت کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ یورپی حکام جعلی دستاویز کے ساتھ سفر کرنے والے شامی مہاجرین کے بارے میں انتباہ کرتے چلے آرہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے روپ میں مشتبہ جنگجو بھی یورپی ممالک میں داخل ہونے میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور وہ حملے کرسکتے ہیں۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گذشتہ ماہ حملے کرنے والے دو جنگجوؤں کے بارے میں پتا چلا تھا کہ وہ شام کے دو جعلی پاسورٹس کے ذریعے یورپ میں داخل ہوئے تھے۔یورپی یونین کی بارڈر ایجنسی فرانٹیکس کے سربراہ فیبرک لیگری نے ویلٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ میں کسی چیک کے بغیر جوق در جوق داخل ہونے والے افراد سیکورٹی خطرے کا موجب ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شام جیسے جنگ زدہ ممالک میں جاری شدہ پاسپورٹس کے بارے میں کوئی بھی یہ ضمانت نہیں دے سکتا ہے کہ وہ اصلی ہیں کیونکہ یہ کسی مجاز اتھارٹی نے ہی جاری کیے تھے۔

جرمنی کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی اس اخباری رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ تارکینِ وطن کی ایک بہت بڑی تعداد کی آمد کے پیش نظر اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان کے ساتھ جرائم پیشہ ،جنگی جرائم کے مجرم ، جنگجو گروپوں یا دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے یا انتہا پسند نظریات کے حامل افراد بھی آ سکتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کے پاس جعلی دستاویزات ہیں''۔

جرمن حکومت نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس نے ابتدائی طور ملک میں شام کے جعلی پاسپورٹس پر داخل ہونے والے افراد کے تناسب کے حوالے سے کچھ زیادہ تخمینہ لگایا تھا۔جرمن وزیرداخلہ نے ستمبر میں ان افراد کی تعداد تیس فی صد کے لگ بھگ بتائی تھی لیکن اب جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی تعداد اس سے کہیں کم ہے۔

جرمنی شام میں جاری خونریزی سے جانیں بچا کر آنے والوں کے لیے ''کھلے دروازے'' (اوپن ڈور) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور انھیں مہاجرین کے اعلیٰ درجے کے مطابق ''بنیادی تحفظ'' دیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ خانہ جنگی کا شکار شام سے مہاجرین کی بڑی تعداد ترکی اور خطہ بلقان کے راستے جرمنی کا رُخ کررہی ہے اور سال کے اختتام تک شامی مہاجرین اور غیر قانونی طریقے سے آنے والے دوسرے غیرملکی تارکین وطن کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں