.

افغانستان : طالبان کے خودکش حملے میں 6 نیٹو فوجی ہلاک

طالبان جنگجوؤں کا صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین میں اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں بگرام ائیربیس کے نزدیک نیٹو اور افغان فوج کی ایک مشترکہ گشتی پارٹی پر خودکش بم دھماکے میں چھے نیٹو فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور بمبار ایک موٹرسائیکل پر سوار تھا اور اس نے خود کو فوجیوں کے نزدیک دھماکے سے اڑا دیا ہے۔کابل میں نیٹو ہیڈکوارٹرز میں شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ جنرل ولیم شوفنر نے اس حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں تین فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق سوموار کی دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب بگرام ائیربیس کے نزدیک فوجیوں پر بم حملہ کیا گیا تھا۔تاہم ترجمان نے پالیسی کے مطابق فوری طور پر بم دھماکے میں مرنے والے فوجیوں کی شناخت اور قومیت نہیں بتائی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹویٹ میں اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں انیس فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ طالبان ترجمان اس طرح کے بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہتے ہیں۔

قبل ازیں ایک افغان عہدے دار نے حملے میں نیٹو کے تین فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ دو فوجی زخمی ہوئے ہیں۔اگست کے بعد افغانستان میں نیٹو فوجیوں پر یہ سب سے تباہ کن حملہ ہے۔

ہلمند میں لڑائی

ادھر افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور طالبان مزاحمت کاروں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور طالبان نے ضلع سنگین میں متعدد اہم عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔طالبان جنگجوؤں نے اتوار کو شہر میں سرکاری عمارتوں پر قبضے کے لیے کارروائی شروع کی تھی۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ضلع سنگین میں خوراک کی قلّت ہو چکی ہے۔ہلمند کے نائب گورنر محمد جان رسول یار نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں بتایا ہے کہ سنگین میں پولیس ہیڈ کوارٹرز ،گورنر کے دفتر اور انٹیلی جنس ایجنسی کی عمارت پر قبضہ کر لیا ہے اور اس وقت شدید لڑائی جاری ہے۔

اس شہر میں طالبان کی افغان فوج کے مقابلے میں پیش قدمی کے بعد رسول یار ہی نے گذشتہ روز اپنے فیس بُک صفحے پر افغان صدر اشرف غنی سے ہلمند کو بچانے کی اپیل کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ پورے صوبے پر طالبان کا قبضہ ہوسکتا ہے۔کابل میں افغان حکومت نے سنگین میں مزید کمک بھیجنے کا وعدہ کیا ہے لیکن ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس ضلع پر طالبان کے قبضے کا خطرہ ہے۔

لیکن سنگین میں محصور ہوجانے والے مکینوں نے شہر اور پورے ضلع کی مختلف صورت حال بیان کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مزاحمت کاروں نے شہر کی جانب آنے والی تمام شاہراہوں پر بارودی سرنگین بچھا دی ہیں اور سرکاری عمارتوں میں محصور فوجی خوراک مہیا کرنے کی اپیلیں کررہے ہیں۔انھیں غذائی قلت کا سامنا ہے۔

اگر طالبان کا ہلمند کے تمام اضلاع پر قبضہ ہوجاتا ہے تو یہ افغانستان کی نیٹو کی حمایت یافتہ فورسز کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ایک مغربی عہدے دار کے بہ قول حالیہ ہفتوں کے دوران امریکا کی خصوصی فورسز کے دستے افغان فورسز کی مدد کے لیے اس صوبے میں بھیجے گئے تھے لیکن اس کے باوجود طالبان مزاحمت کاروں نے یہ نمایاں پیش قدمی کی ہے۔