.

روسی صدر کا دائیں بازو حرکت کیوں نہیں کرتا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب سے شام میں روسی فوج نے صدر بشارالاسد کی حمایت میں کارروائی شروع کی ہے تب سے عالمی ذرائع ابلاغ میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن چھائے ہوئے ہیں۔ سیاسی بیانات کے جلو میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک رپورٹ میں مسٹر پیوٹن کی ایک منفرد عادت کے راز سے بھی پردہ اٹھایا ہے اور بتایا ہے کہ چلتے ہوئے صدر ولادی میر پیوٹن اپنے دائیں ہاتھ کو حرکت کیوں نہیں دیتے ہیں؟

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یورپی اعصابی ماہرین کی ایک ٹیم نے اپنی ایک تازہ تحقیق میں بتایا ہے کہ صدر ولادی میرپیوٹن اپنے داہنے بازو کو اس لیے حرکت نہیں دیتے کیونکہ وہ فوج میں رہتے ہوئے اس کے عادی ہوچکے ہیں۔ سابق سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی’’کے جی بی‘‘ سے وابستہ رہنے والے موجودہ روسی صدر کو عسکری تربیت کے دوران دائیں بازو کے ساتھ بندوق اٹھا کر مارچ کی تربیت دی گئی تھی۔ کسی بھی دوسرے روسی فوجی کی طرح ولادی میر پیوٹن دائیں ہاتھ کو بلا ضرورت نہ ہلانے کی عادی ہو چکے ہیں۔ چلتے ہوئے اب بھی ایسے ہی لگتا ہے کہ انہوں نے دائیں کندھے سے اسلحہ تھام رکھا ہے۔ جس کے نتیجے میں ان کا دایاں بازو حرکت نہیں کر سکتا ہے۔

رپورٹ کےمطابق دائیں بازو کو حرکت نہ دینے کی ٹریننگ انہیں ’کے جی بی‘ میں خدمات کے دوران دی گئی جو اب ان کی مستقل طور پر فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔

رپورٹ میں اس بات سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ دوران تربیت کسی بھی فوجی سپاہی اور افسر کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اسلحہ اٹھا کر ایسے چلیں کہ ان کا دایاں بازو حرکت نہ کرے۔ البتہ بائیں بازو کو وہ دیگر مشاغل اور اسلحہ کے استعمال کے لیے حرکت دیتے رہے ہیں۔

دائیں بازو کو حرکت نہ دینے کی عادت میں ولادی میر پیوٹن تنہا نہیں ہیں۔ یہی عادت روسی وزیر اعظم دیمتری میدویدوف، سابق وزیر دفاع اناتولی سیردیکوف اور آرمی چیف اناتولی سیدوروف سمیت دیگر کو ایسی ہی فوجی تربیت دی گئی تھی جس کے نتیجے میں وہ چلتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ کو حرکت نہیں دیتے۔ آج بھی وہ جب چل رہے ہوں تو ایسے لگتا ہے کہ انہوں نے دائیں کندھے سے اسلحہ لگا رکھا ہے۔

سنہ 2008ء سے 2012ء تک وزیر اعظم رہنے والے میدویدوف براہ راست روسی انٹیلی جنس سے وابستہ نہیں رہے تاہم یونیورسٹی کے پانچ سالہ دور میں انہیں اسلحہ اٹھانے کی تربیت دی گئی تھی۔ اس کے باوجود میدویدوف کی باڈی لینگویج کافی حد تک صدر ولادی میر پیوٹن سے مشابہت رکھتی ہے۔