.

مصری نژاد دوشیزہ ہسپانوی پارلیمنٹ کی رکن منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپین میں اتوار کے روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران 24 سالہ نجویٰ جویلی نامی ایک مصری نژاد خاتون بھی منتخب ہوئی ہیں جنہوں نے اسپین میں کسی عرب ملک سے تعلق رکھنے والی پہلی رکن پارلیمنٹ کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ جویلی نہ صرف مصری نژاد ہونے کے اعتبار سے عرب پس منظر رکھتی ہیں بلکہ وہ پارلیمنٹ کی سب سے کم عمر رکن بھی ہیں۔

مصر کے سماجی کارکن اور ہسپانوی پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہونے والی مصری دوشیزہ کے والد احمد جویلی کے دوست عبدالرحمان منصور نے ’’فیس بک‘‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں بتایا کہ نجویٰ جویلی کے والد احمد جویلی سنہ 1990ء میں ہسپانوی زبان سیکھنے کے لے میڈریڈ آئے۔ اس سے قبل وہ قاہرہ میں واقع اسپانوی کلچر سینٹر میں بھی اسپینی زبان سے کچھ شناسائی حاصل کر چکے تھے۔ نجویٰ کی پیدائش میڈریڈ میں 1991ء کو ہوئی اور اس نے تعلیم اسپین ہی سے حاصل کی تھی۔

عبدالرحمان منصور نے بتایا کہ احمد اسپین آنے کے بعد ٹورزم و ہوٹلنگ کالج سے وابستہ ہوئے جہاں وہ ہسپانوی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ ذریعہ معاش کے لیے کچھ دیر ملازمت بھی کرتے۔ سپین میں سیاحت کے میدان میں تعلیم کے بعد انہوں نے ایک نجی سیاحتی کمپنی قائم کی، جسے بعد ازاں دوستوں کی مدد سے یورپ کے دوسرے ممالک تک وسیع کر دیا گیا۔

مصر میں 25 جنوری 2011ء کو برپا ہونے والی تحریک کے دوران احمد اسپین میں موجود مصری کمیونٹی کے انقلاب کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں پیش پیش رہے۔ مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد دیگر ہزاروں شہریوں کی طرح احمد بھی وطن لوٹے۔ تاہم وہ مصر میں سیاست میں حصہ لینے کے بارے میں متذبذب ہی رہے۔

احمد جویلی اور ان کی صاحبزادی نجویٰ نے اسپانوی سیاسی جماعت ’’بودیموس‘‘ میں شمولیت اختیار کی۔’’بودیموس‘‘ کا معنیٰ ہے’’ہم کر سکتے ہیں‘‘۔ حال ہی میں اسی جماعت کی ٹکٹ پر نجویٰ نے ہسپانوی پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لیا اور پارلیمنٹ کی پہلی عرب نژاد اور کم عمر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے نجویٰ ماہر نفسیات ہیں تاہم وہ سماجی اور سیاسی میدانوں میں بھی اپنے والد کے ہمراہ متحرک رہی ہیں۔