.

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو ''جھوٹی'' قرار دے دیا

مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی سے متعلق بیان پر تنازعے کا نیا رُخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے مشہور زمانہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لینے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔ان کا نیا ہدف جمہوری پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن بنی ہیں اور انھوں نے اپنی خاتون حریف کو سیدھے سبھاؤ جھوٹی قرار دے دیا ہے۔

ہلیری کلنٹن کا یہ قصور ہے کہ انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی سے متعلق بیان پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے داعش کو پروپیگنڈے میں مدد مل رہی ہے۔ٹرمپ صاحب نے سان برنارڈینو میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد تمام مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

ٹرمپ صاحب اس پر اتاولے ہوگئے۔انھوں نے این بی سی کے پروگرام ''میٹ دا پریس'' میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہلیری کلنٹن کے پاس اس الزام کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ری پبلکن پارٹی کے سرکردہ امیدوار انتہا پسند گروپ کے ''بہترین بھرتی کنندہ'' بن گئے ہیں''۔

ہلیری نے ہفتے کے روز ایک مباحثے کے دوران یہ الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ ''داعش کے جنگجو ڈونلڈ ٹرمپ کے تندو تیز بیانات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔وہ لوگوں کے پاس جارہے ہیں اور انھیں بتا رہے ہیں کہ مسٹر ٹرمپ اسلام اور مسلمانوں کی توہین کررہے ہیں''۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے ردعمل میں کہا ہے کہ ''وہ (ہلیری) جھوٹی ہیں اور ہر کوئی یہ بات جانتا ہے''۔ہلیری کلنٹن کی مہم کی جانب سے ری پبلکن صدارتی امیدوار کے اس تندوتیز بیان پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔البتہ اس مؤقف کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ہلیری کا بیان ٹھوس شواہد پر مبنی تھا۔

تاہم انسداد دہشت گردی کے ماہرین اور داعش کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اب تک اس سخت گیر جنگجو گروپ نے اپنے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس پر ٹرمپ کا کوئی حوالہ نہیں دیا ہے۔البتہ کلنٹن کی مہم کے انچارج جان پوڈیسٹا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جنگجو گروپوں کو کوئی نقصان پہنچانے کے بجائے ان کے مدد گار بن رہے ہیں۔