.

"اسرائیلی لابی کے دباؤ پر امریکا ویزا قانون تبدیل کر رہا ہے "

پابندیوں میں ایران کا نام شامل کرنا احمقانہ فیصلہ ہے: جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی #کانگریس نے ویزے سے متعلق معاملات میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے ایرانیوں اور #ایران کا سفراختیار کرنے والوں کا #امریکا میں بغیر ویزا داخلے کا استثنیٰ ختم کر دیا ہے۔ #تہران نے امریکی فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اسرائیلی لابی کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

امریکی صدر براک #اوباما نے کانگریس کی منظوری کے بعد جمعہ کو اس پر دستخط کردیے ہیں اور یہ قانون نافذالعمل ہوگیا ہے۔ یہ قانون #عراق، #شام اور #سوڈان پر لاگو ہو گا۔ پیرس، سان برنارڈینو اور کیلیفورنیا میں #داعش کے حملوں کے بعد یہ فیصلہ ایک سیکیورٹی اقدام کے طور پرکیا گیا ہے۔

اگرچہ ایران، داعش جیسے انتہا پسند گروپوں کے بنیاد پرست نظریات کا شدید مخالف ہے۔ تہران سمجھتا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی کی تبدیلی میں ایران کا نام شامل کرنا دراصل مغربی دنیا بشمول امریکا کے ساتھ اس کے نیوکلیئر معاملات پر طے پانے والے معاہدے کو خراب کرنا ہے۔

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابری نے کہا کہ امریکی قانون صہیونی لابی کے دباؤ اور مغربی دنیا کے ساتھ اس کے نیوکلیئر معاہدے کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔

بغیر ویزا داخلے کے امریکی پروگرام کے تحت 38 ملکوں کے شہریوں کو ویزا کے بغیر امریکا آنے کا استثنیٰ حاصل ہے اور ایسے امریکا آنے کے اہل شہریوں کی بڑی اکثریت یورپی ملکوں سے تعلق رکھتی ہے۔ نئی پابندیوں کے تحت گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ایران، عراق، شام اور سوڈان جانے والے وہ شہری جن کے پاس دہری شہریت ہو، وہ بھی بغیر ویزا امریکا داخلے کی پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے۔

یہ اقدام تیرہ نومبر کو #پیرس میں داعش کے ہاتھوں 130 افراد کی ہلاکت کے بعد کیا گیا ہے۔ یاد رہے ان مقامات پر حملہ کرنے والے متعدد افرادیورپی شہری تھے اور ان میں سے چند شام میں داعش کے زیر نگین علاقوں کا سفر کر چکے تھے۔

درایں اثناء ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی لسٹ میں ایران کا نام شامل کرنے کے امریکی فیصلے کو 'احمقانہ' قرار دیا ہے۔

'المانیٹر' ویب پورٹل سے گفتگو کرتے ہوئے جواد ظریف کا کہنا تھا کہ کسی ایرانی یا ایران کا دورہ کرنے والا کا پیرس اور سان برنارڈینو میں رونما ہونے والے افسوسناک واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تہران، امریکا کے محکمہ خارجہ کی اس لسٹ میں شامل ہے جو دہشت گردی کو سپانسر کرتے ہیں۔

مسٹر کربی کے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ویزا پروگرام کو ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کے بعد کئے جانے والے کسی بھی جائز کاروبار کو روکنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔