.

''شامی مہاجرین کو قبولنے سے انکاری داعش کے اتحادی ہیں''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت پناہ گزینوں کے ادارے کے ہائی کمشنر(یو این ایچ سی آر) انتونیو گتریس نے کہا ہے کہ جو لوگ شامی مہاجرین کو قبول کرنے سے انکار کررہے ہیں ،وہ داعش اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کے اتحادی ہیں۔

انھوں نے یہ بیان امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے شعلہ بیان صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی اس اشتعال انگیز تجویز کے ردعمل میں جاری کیا ہے جس میں انھوں نے تمام غیرملکی مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انتونیو گتریس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ شامی مہاجرین پر دہشت گردی کا الزام عاید نہیں کیا جاسکتا ہے،وہ تو خود اپنی جانیں بچا کر دوسرے ممالک کا رُخ کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''جو بھی مہاجرین اور خاص طور پر مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دینے سے انکاری ہیں تو وہ انتہا پسند گروپوں کے پروپیگنڈا اور بھرتی کے لیے بہترین اتحادی ہیں''۔ان کا اشارہ ڈونلڈ ٹرمپ ،امریکا کی بعض ریاستوں کے گورنروں اور یورپی لیڈروں کی جانب تھا۔

امریکا کی بعض ریاستوں نے 13 نومبر کو پیرس میں داعش کے حملوں اور 2 نومبر کو سان برنارڈینو میں فائرنگ کے واقعے کے بعد کہا ہے کہ وہ شامی مہاجرین کے لیے اپنے دروازے بند کردیں گے۔بعض یورپی اور شمالی افریقا کے ممالک کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ شامی مہاجرین کے روپ میں انتہا پسند بھی آ سکتے ہیں۔

لیکن انتونیو گتریس نے ان کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم ان دنوں جو غوغا آرائی سن رہے ہیں،اس کے پیش نظر یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ یہ مہاجرین ہی دہشت گردی کا سب سے پہلا نشانہ بنتے ہیں اور وہ اس کا ذریعہ نہیں ہیں''۔ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس خطرے کا الزام نہیں دیا جاسکتا ہے جس کا وہ خود ہدف بن رہے ہیں اور اپنی جانیں بچا کر محفوظ پناہ گاہوں کا رُخ کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی،امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں کے حملوں کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ملک کی نصف سے زیادہ آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔ان میں سے قریباً تینتالیس لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین پڑوسی ممالک ترکی، لبنان، اردن اور عراق میں رہ رہے ہیں۔لاکھوں مہاجرین دشوار گذار اور پُرخطر راستوں سے یورپی ممالک کی جانب جا رہے ہیں۔