.

ایران: امریکا کا نیا ویزا قانون جوہری معاہدے کی خلاف ورزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکا کے نئے ویزا قانون کو جولائی میں طے شدہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔قانون کے تحت ایرانیوں اور ایران کے سفر پر آنے والے دوسرے لوگوں پر قدغنیں عاید کی جارہی ہیں۔

امریکی کانگریس میں منظور کردہ اس قانون کے تحت ایرانی شہریوں یا ایران کا سفر کرنے والے دوسرے افراد کا اب امریکا میں ویزا فری داخلہ ممکن نہیں ہوگا۔امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ جمعہ کو اس پر دستخط کردیے تھے اور اس کے بعد یہ قانون بن چکا ہے۔اس کے تحت عراق ،شام اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے افراد پر بھی یہی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔

امریکا کا کہنا ہے کہ اس قانون کو پیرس اور سان برنارڈینو (کیلی فورنیا) میں حملوں کے بعد ایک سکیورٹی اقدام کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ان دونوں حملوں کی داعش نے ذمے داری قبول کی تھی۔ایران نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس فہرست میں اس کے نام کی شمولیت کا مقصد جوہری معاہدے کو سبوتاژ کرنا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اگر امریکی کانگریس میں منظور کردہ قانون پر اسی انداز میں ہو بہو عمل درآمد کیا جاتا ہے تو یہ یقینی طور پر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اس مسئلے پر امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے نیویارک میں اپنی حالیہ ملاقات کے دوران بات کی تھی اور گذشتہ دس روز کے دوران میں انھیں متعدد برقی خطوط (ای میل) بھیجے گئے ہیں۔انھوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ ''اس طرح کے اقدامات جوہری معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل نہیں ہوں گے''۔

امریکا کے نئے ویزا قانون کے تحت اڑتیس ممالک کے شہریوں کو استنثیٰ حاصل ہے۔ان میں زیادہ تر یورپی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ان نئی قدغنوں کے تحت ایران ،عراق ،شام اور سوڈان کا گذشتہ پانچ سال کے دوران سفر کرنے والے اور ان ممالک میں سے کسی ایک کی دُہری شہریت کے حامل افراد کو اب ویزے کا استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے سوموار کو فرانسیسی سینیٹ کے صدر جیرارڈ لارچر سے تہران میں ملاقات کے دوران نئے امریکی قانون کو امتیازی قراردیا تھا اور انھوں نے یورپی ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ اس قانون کی مخالفت کریں کیونکہ یہ ان کی آزادی کے خلاف ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ہفتے کے روز جواد ظریف کو ایک خط بھیجا تھا اور اس میں انھیں یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ امریکا جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔انھوں نے وضاحت کی ہے کہ وائٹ ہاؤس انفرادی کیسوں کا جائزہ لینے کے بعد ویزے کی اس پابندی کو ختم کرسکتا ہے۔