.

فرانس : باس کا سرقلم کرنے والے کی جیل میں خودکشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں اپنے باس کا سرقلم کرنے اور ایک کیمیکل پلانٹ کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کرنے والے مبینہ قاتل نے جیل میں خودکشی کر لی ہے۔

فرانسیسی جیلوں کی یونین کے ایک عہدے دارمارسیل دریدن نے بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا ہے کہ پینتیس سالہ یاسین صالحی نے جیل کی کوٹھڑی میں پھندے سے جھول کر خودکشی کی ہے۔

صالحی کو جون میں امریکا کی ایک گیس اور کیمیکل کمپنی ائِیر پراڈکٹس کی ملکیتی جگہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔وہیں سے اس کے باس کا دھڑ سے الگ سر ملا تھا اور اس کے ساتھ ایک اسلامی جھنڈا تھا۔

یہ واقعہ عین اس روز پیش آیا تھا جب تیونس میں ایک ساحلی مقام پر جنگجوؤں نے غیرملکی سیاحوں پر حملہ کیا تھا اور کویت میں ایک مسجد میں خودکش بم دھماکا ہوا تھا۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے دہشت گردی کے ان دونوں واقعات کی ذمے داری قبول کی تھی جبکہ اس وقت فرانس میں جنوری میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے میگزین چارلی ایبڈو پر القاعدہ سے وابستہ دو بھائیوں کے حملے کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔

فرانسیسی حکام نے یاسین صالحی پر اسلامی جنگجوؤں سے تعلق کا الزام عاید کیا تھا لیکن ملزم نے اس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ اس نے کسی سیاسی محرک کی بنا پر اپنے باس کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ مقتول اور اس کے درمیان کسی بات پر توتکار ہوئی تھی۔

اس کے فون ریکارڈ کے مطابق اس نے گرفتاری سے قبل اپنے باس کے قلم کیے گئے سر کے ساتھ اپنی ایک تصویر بنائی تھی اور ایک فرانسیسی شہری کو یہ تصویر بھیجی تھی۔اس فرانسیسی کا آخری مرتبہ شام کے شہر الرقہ میں موجود ہونے کا سراغ ملا تھا۔یہ شہر داعش کا مضبوط گڑھ ہے۔

فرانسیسی حکام کا کہنا تھا کہ یاسین صالحی اسلامی جنگجوؤں کے ساتھ وابستہ رہا تھا اور 2006ء اور 2008ء کے درمیان اس کے بارے میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ سخت گیر جنگجو بن سکتا ہے۔اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ تو نہیں تھا۔البتہ اس نے اپنے حملے کی منصوبہ بندی کا کسی کو کوئی شائبہ تک نہیں ہونے دیا تھا۔