.

سلامتی کونسل نے لیبیا امن سمجھوتے کی توثیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے لیبیا کے متحارب دھڑوں کے درمیان قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کے لیے طے پائے سمجھوتے کی توثیق کردی ہے۔

سلامتی کونسل میں اتفاق رائے سے منظورکردہ اس قرارداد کا مسودہ برطانیہ نے تیار کیا تھا۔اس میں واضح کیا گیا ہے کہ مستقبل میں قائم ہونے والی قومی اتحاد کی حکومت ہی لیبیا کی واحد نمائندہ ہوگی۔

لیبیا کی متحارب پارلیمانوں کے ارکان اور سیاسی شخصیات نے گذشتہ جمعرات کو مراکش میں جنگ زدہ ملک میں قومی اتحاد کی واحد حکومت کی تشکیل کے لیے سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن کوبلر کی ثالثی میں مذاکرات کے متعدد ادوار کے بعد اس سمجھوتے پر اتفاق ہوا تھا۔اس کے بارے میں عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ اس سے خانہ جنگی کا شکار ملک میں استحکام لانے اور داعش کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے میں مدد ملے گی۔

تاہم طرابلس اور طبرق میں قائم پارلیمانوں کے سربراہوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پائے اس سمجھوتے کی مخالفت کی تھی اور انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جو سیاست دان اس پر دستخط کررہے ہیں،وہ ذاتی حیثیت میں ایسا کررہے ہیں۔ان دونوں سربراہوں نے اس کے بجائے تیونس میں اسی ماہ کے اوائل میں ایک اور متبادل معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان کام کررہی ہیں۔دارالحکومت طرابلس میں اسلامی گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کے تحت حکومت قائم ہے اور ملک کے مشرقی علاقوں میں وزیراعظم عبداللہ الثنی کی قیادت میں حکومت کی عمل داری ہے۔اس کے دفاتر مشرقی شہر طبرق میں قائم ہیں۔