.

'داعش' سے متعلق ہمارا روس سے کوئی رابطہ نہیں: طالبان

افغانستان میں داعش کا پھیلاؤ روکنے کی حد تک طالبان رابطوں کا روسی اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے داعش کی بیخ کنی کے لئے روس اور اپنی تنظیم کے درمیان رابطوں اور معلومات کے تبادلے سے متعلق روسی دعوے کی تردید کر دی ہے۔ العربیہ نے برادر چینل 'الحدث' کو ارسال ایک بیان میں طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ داعش کے خاتمے کی خاطر طالبان کو کسی کی مدد درکار نہیں ہے۔

روسی وزارت خارجہ میں افغان امور کے سربراہ اور کرملین میں افغان ڈیسک کے نگران زامیر کابولوف نے ایک بیان میں دعوی کیا تھا کہ ان کے ملک اور افغان طالبان کے درمیان افغانستان سے داعش کے خاتمے کے سلسلے میں معلومات کے تبادلہ ہو چکا ہے۔

روسی عہدیدار نے 'انٹرفیکس' نیوز ایجنسی کو بتایا کہ افغانستان میں داعش کا پھیلاؤ روکنے جیسے مشترکہ مفادات کے ضمن میں ماسکو اور طالبان کے درمیان رابطے موجود ہیں اور اس سلسلے میں ہمارے درمیان معلومات کا تبادلہ ہو ا ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان اور روسی مفادات معروضی طور پر ہم آہنگ ہیں کیونکہ پاکستان اور افغانستان میں سرگرم طالبان دونوں ہی 'داعش' اور اس کے خود ساختہ خلیفہ کو ماننے سے انکار ی ہیں۔

درایں اثناء روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخاروفا نے کابولوف کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ ماسکو اور طالبان کے درمیان رابطے محدود ہیں اور صرف معلومات کے تبادلے تک موقوف ہیں۔ دونوں فریقین نے اس ضمن میں کوئی باقاعدہ ملاقات نہیں کی ہے۔ بقول ماریا روس طالبان کو اب بھی دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔