.

ترک فوج کے ساتھ جھڑپوں میں 9 کرد باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں فوج کے ساتھ جھڑپوں میں نو کرد باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔لڑائی میں تین فوجی زخمی ہوگئے تھے۔ان میں ایک فوجی اسپتال میں اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا ہے۔

ترکی کی مسلح افواج کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کرد باغیوں کے ساتھ ایک جھڑپ شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے چیزر میں جمعرات کی شب ہوئی تھی۔اس دوران ترک فوجیوں اور کرد باغیوں کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا ہے اور چھے کرد باغی ہلاک ہوگئے۔ترک حکام نے اس قصبے اور عراق کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے سلوپی میں گذشتہ بارہ روز سے کرفیو نافذ کررکھا ہے۔

اس علاقے کے سب سے بڑی شہر دیاربکر میں بھی جمعرات کو پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تین کرد باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔دیاربکر کے بعض حصوں میں بھی کرفیو نافذ ہے۔

کرد نواز پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق سکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیوں کے دوران اڑتیس شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ فوج کی ٹینکوں کے ساتھ کارروائی میں باغی گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے ایک سو اڑسٹھ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترک فوج نے گذشتہ بدھ کو جنوب مشرقی صوبے سرناک میں واقع شہروں چیزر اور سلوپی اور علاقے کے سب سے بڑے شہر دیاربکر میں کرد باغیوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق ترکی کے جنوب مشرق میں واقع شہروں میں قریباً دس ہزار فوجی پی کے کے کے جنگجوؤں اور نوجوان حامیوں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔

ترک حکومت اور علاحدگی پسند کردستان ورکرز پارٹی کے درمیان جولائی میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور کم وبیش روزانہ ہی کرد باغیوں اور ترک سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں یا پھر کرد باغی سکیورٹی فورسز پر بم حملے کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ پی کے کے اور انقرہ حکومت کے درمیان سنہ 2012ء کے آخر میں امن سمجھوتے پراتفاق ہوا تھا جس کے تحت کرد باغیوں نے سکیورٹی فورسز پر حملے روک دیے تھے اور ان کے خلاف ترک فوج نے بھی مہم بند کردی تھی لیکن ترک حکومت اور کردوں کے درمیان امن مذاکرات میں گذشتہ تین عشروں سے جاری اس تنازعے کے خاتمے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔1980ء کے عشرے سے جاری اس خونریزی میں پینتالیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔