.

فضائی حملوں سے شامی تیل کی ترکی سمگلنگ کم ہوگئی: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#روس کا کہنا ہے کہ #شام میں دولت اسلامیہ عراق وشام '#داعش' کے خلاف جاری فضائی حملوں کے نتیجے میں شام سے #ترکی میں تیل کی سمگلنگ میں کمی آئی ہے۔

روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام اور ترکی کی سرحد پر تیل کے ٹینکروں کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری ہے۔ انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ شام سے آئل ٹینکروں کی ترک شہر 'بیٹ مین' میں موجود ایک ریفائنری کی ترسیل میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

وزارت کا مزید کہنا تھا کہ ریحانلی اور اسکندرون میں بھی آئل ٹینکروں کی آمد ورفت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ماسکو کا کہنا تھا کہ شدت پسند گروپ روسی فضائی حملوں سے بچنے کے لئے شام سے تیل سمگل کرنے کے مختلف طریقے تلاش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ ٹرک اب عراقی سرحد کے قریبی قصبے سے ترک علاقے میں داخل ہوتے ہیں۔

بیان میں مزید نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ روٹ میں بڑی تبدیلی کے باوجود تمام ٹینکر ترکی ہی جارہے ہیں۔ ان مختلف راستوں پر چلنے والے یہ ٹرک اکثر رات کو سفر کرتے ہیں۔

پچھلے ہفتے کے دوران روسی فضائی حملوں میں ٹرکوں کے 17 قافلے اور زمین سے تیل نکالنے اور صاف کرنے کا سامان تباہ کیا تھا۔

روس کی جانب سے شام میں 30 ستمبر سے شروع کی جانے والی مہم میں اب تک تقریبا 2000 آئل ٹینکر تباہ کئے جاچکے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے شام میں اب تک 5240 کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔

پچھلے ماہ کے دوران شامی سرحد کے قریب ترکی نے ایک روسی طیارہ مار گرایا تھا جس کے بعد ماسکو نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے خاندان پر الزام لگایا تھا کہ وہ داعش کے جنگجوئوں کے ساتھ تیل کی غیر قانونی تجارت میں مصروف ہیں۔