تہران کے مرکزی خطیب کا ذاتی محافظ شام میں "کام" آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی دارلحکومت تہران کی جامع مسجد کے مرکزی خطیب اور امام جمعہ آیت اللہ امامی کاشانی کے ذاتی محافظ محسن فرامرزی شامی صدر کے خلاف صف آراء مسلح اپوزیشن دستوں کے ہمراہ 'داد شجاعت' دیتے ہوئے مارے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'فارس' کے مطابق محسن فرامرزی کا تعلق ایرانی پاسداران سے تھا۔ وہ اپنے ایک دوسرے کارمریڈ داؤد جوانمرد کے ہمراہ بدھ کے روز حلب میں ہونے والی جھڑپوں میں 'کام آئے'۔

ایک دوسرے خبر رساں ادارے 'مشرق' کے مطابق محسن کے ساتھ جوانمرد سرکاری براڈکاسٹنگ ایجنسی میں ملازم تھا اور وہ شامی اپوزیشن کے بشار الاسد انتظامیہ کے خلاف لڑائی میں ہلاک ہوا۔ یاد رہے کہ جوانمرد اسی کی دہائی میں ایران-عراق لڑائی کے موقع پر پاسداران انقلاب کی صفوں میں شامل رہا ہے اور اس کی پاسداران انقلاب کی صفوں میں لڑائی کی تصاویر شائع ہو چکی ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق تہران کے خطیب جمعہ امامی کاشانی نے اپنے ذاتی محافظ محسن فرامرزی کے قتل پر اظہار افسوس کیا ہے وہ جنوبی تہران کے شہر یافت آباد میں فرامرزی کے جنازے میں شرکت کر رہے تھے۔ اس موقع پر اپنے مختصر خطاب میں امام کاشانی کا کہنا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے شام اور عراق میں داد شجاعت دیتے ہوئے جان دینے والے جنگجو دراصل دفاع اسلام کی جنگ لڑ رہے تھے۔

یاد رہے کہ اسی سال 23 اکتوبر کو سابق ایرانی صدر محمو داحمدی نژاد کے ذاتی محافظ 33 سالہ عبداللہ باقری شامی شہر حلب میں لڑائی کے دوران ہلاک ہو ئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں