سعودی عرب: تیل کی قیمتوں میں 50 فی صد تک اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی کابینہ نے تیل کی مختلف مصنوعات کی قیمتوں میں پچاس فی صد تک اضافے کی منظوری دے دی ہے۔نئی قیمتوں کا اطلاق منگل سے ہوگا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں وزارتی کونسل کے اجلاس میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔اس فیصلے سے بجلی ،پانی ،ڈیزل اور کیروسین کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔

سعودی وزارتی کونسل کے فیصلے کے مطابق اعلیٰ درجے کے پیٹرول کی فی بیرل قیمت 0.60 ریال سے بڑھا کر 0.90 ریال (50 فی صد اضافہ) کردی گئی ہے۔لوئرگریڈ پیٹرول کی قیمت 0.45 سے بڑھا کر 0.75 کردی گئی ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں دوسرے خلیجی ممالک کے مقابلے میں تیل کی قیمتیں سب سے کم ہیں۔

سعودی وزارت خزانہ نے جامع اقتصادی اور مالی اصلاحات کے تحت تیل کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی تھی اور اس کو سوموار کو خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔

قبل ازیں کابینہ کے اجلاس میں مالی سال 2016ء کے لیے 840 ارب ریال مالیت کا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔اجلاس میں وزارت خزانہ کی جانب سے ایندھن ،بجلی اور پانی پر زرِتلافی سے متعلق نظرثانی کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔وزارت کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے پیش نظر آیندہ پانچ سال کے دوران بتدریج توانائی،پانی اور بجلی کی قیمتوں میں نظرثانی پر غور کررہی ہے۔

وزارت خزانہ نے بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے اخراجات اور تن خواہوں میں کمی کے علاوہ سرکاری قرضے کے انتظام کے لیے ایک یونٹ بھی قائم کیا ہے اور یہ یونٹ حکومتی قرضوں کے انتظام وانصرام کے لیے مالیاتی حکمت عملی وضع کرنے کا ذمے دار ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں