.

’اسرائیل سے تعلقات غزہ کا محاصرہ ختم کرنے سے مشروط‘

تل ابیب، انقرہ کے مابین تعلقات کی مساعی کھٹائی میں پڑ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کو جنگ سے متاثرہ اور اسرائیلی پابندیوں کے شکار فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی کی معاشی ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط قرار دی ہیں۔ ترک حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ کا محاصرہ ختم نہیں کرتا تو انقرہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی امید نہ رکھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک حکومت کے ترجمان ابراہیم قالین نے انقرہ میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اسی صورت میں بحال ہو سکتے ہیں کہ پہلے اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی ختم کرے اور سنہ 2010ء میں غزہ امدادی سامان لے جانے والے امدادی کارکنوں پر حملے پر معافی مانگے اور شہید ہونے والے رضاکاروں کے لواحقین کو ہرجانہ ادا کرے۔

انقرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹرقالین کا کہنا تھا کہ ان کا ملک مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے سلسلے میں اسرائیل سے رابطے جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا سفارتی اور سیاسی کردار استعمال کرتا رہے گا۔

خیال رہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات سنہ 2010ء میں اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب اسرائیل نے غزہ جانے والے ترک امدادی بحری جہاز مرمرہ پر کھلے سمندر میں حملہ کر کے کم سے کم دس ترک رضاکاروں کو شہید اور پچاس سے زاید کو زخمی کرنے کے بعد سیکڑوں امدادی کارکنوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

ترک ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے تین شرائط رکھی گئی ہیں۔ جب تک ان تینوں میں سے کوئی ایک شرط بھی باقی رہتی ہے تل ابیب سے تعلقات قائم نہیں ہو سکتے ہیں۔ پہلی شرط یہ کہ اسرائیل مرمرہ جہاز پر حملے پر ترکی سے معافی مانگے، شہید اور زخمی ہونے والے رضاکاروں کے لواحقین کو ہرجانے ادا کرے اور فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پرعاید کردہ پابندیاں اٹھانے کا اعلان کرے۔