.

سعودی مردوں کو صنف نازک کے ہاتھوں ہراسیت کا سامنا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں عموما مردوں کی جانب سے صنف نازک کو ہراساں کرنے کی شکایات سامنے آتی ہیں مگر سعودی عرب میں اس معاملے پر الٹی گنگا بہتی دیکھی گئی ہے۔

کثیرالاشاعت عرب روزنامہ 'مکہ' ایک رپورٹ کے مطابق جدہ کے ایک سب سے بڑے شاپنگ مال کے سیکیورٹی حکام کو خواتین کی جانب سے مردوں کو ہراساں کئے جانے کی باضابطہ طور پر 16 شکایات موصول ہوئی ہیں۔

اخبار کے مطابق ان میں سے اکثر شکایات زبانی ہراسیت کی تھیں جن میں خواتین کی جانب سے مردوں کو چھیڑنے اور ان کا پیچھا کرنے کے واقعات شامل ہیں۔ کئی ایک واقعات میں خواتین نے مردوں پر الزام لگایا کہ وہ ان کا پیچھا کررہے ہیں، حقیقت میں اس کے برعکس ہوتا تھا۔

شاپنگ مال کے جنرل منیجر ریان قدوری کا کہنا تحا کہ خریداری مرکز کے محکمہ سیکیورٹی کو مردوں کی جانب سے شکایات موصول ہوئی ہیں اور مال میں لگے خفیہ نگرانی کے لئے نصب کیمروں نے ان کے دعووں کی تصدیق کی ہے۔

قدوری کے مطابق کئی مردوں نے بدنامی کے ڈر سے خواتین کے خلاف شکایت درج نہیں کرواتے۔ ایک سعودی نوجوان شادی مدنی کا کہنا تھا کہ "اگر مجھے ہراساں کیا جائے گا تو میں خاتون کو نظر انداز کردوں گا۔"

شادی کا ماننا ہے کہ اس قسم کی کارروائیاں کا حل سخت قوانین کا اطلاق ہے۔ ایک اور نوجوان احمد معیدی کا کہنا تھا کہ لوگ عام طور پر خواتین کی جانب سے مردوں کو ہراساں کرنے کے واقعات پر بات کرنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ لوگ ہراسیت کا نشانہ بننے والے شخص کو کمزور قرار دیتے ہیں۔

ایک شخص نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ اگر انہیں کسی لڑکی نے چھیڑا تو وہ فورا امر بالمعروف والنھی عن المنکر [مذہبی پولیس] کو فون کر کے حکام کو شکایت کریں گے۔

ایک سعودی خاتون نادہ جمبی کے مطابق لڑکیاں صرف توجہ حاصل کرنے کے لئے مردوں کو چھیڑتی ہیں۔ کچھ خواتین کا یہ خیال ہے کہ شادی کی خواہشمند رلڑکیاں مردوں کو ہراساں کرتی ہیں۔