.

10 لاکھ سے زیادہ تارکینِ وطن کی بحری راستے سے یورپ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ اس سال کے دوران سمندری راستے سے دس لاکھ سے زیادہ تارکین وطن یورپ میں پہنچ چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی جانب سے بدھ کو ان اعداد وشمار کے منظرعام پر آنے سے ایک ہفتہ قبل عالمی تنظیم برائے تارکینِ وطن نے یہ کہا تھا کہ اس سال یورپ میں پہنچنے والے تارکین وطن اور مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے متجاوز ہوچکی ہے۔ان میں 34215 برّی راستوں اور سرحدی گذرگاہوں سے یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق 2015ء کے دوران 10 لاکھ 573 افراد کشتیوں کے ذریعے یورپی ممالک میں لنگرانداز ہوئے ہیں۔ان میں 844176 یونان ،152700 اٹلی ،3592 سپین اور 105 مالٹا پہنچے ہیں۔

یہ اعداد وشمار ان ممالک کی پولیس اور ساحلی محافظوں کے فراہم کردہ ہیں۔ان کے علاوہ یونان میں مہاجرین اور تارکین وطن کی رجسٹریشن کی گئی ہے اور اٹلی ،اسپین اور مالٹا کی حکومتوں اور یو این ایچ سی آر نے بھی ان پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے اعداد وشمار اکٹھے کیے ہیں۔ان تمام مہاجرین میں 49 فی صد کا تعلق شام اور 21 فی صد کا افغانستان سے ہے۔یو این ایچ سی آر کے مطابق 3735 افراد دشوار گذار سمندری سفر کے دوران مختلف حادثات کا شکار ہو کر ہلاک یا لاپتا ہوگئے تھے۔

جرمنی نے اس سال کے دوران یورپی یونین کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ تارکین وطن کو اپنے ہاں پناہ دی ہے۔2015ء کے پہلے حصے میں جنوب مشرقی یورپ کے ممالک البانیا ، کوسوو اور سربیا سے بھی بڑی تعداد میں تارکین وطن کی جرمنی میں آمد ہوئی تھی۔

جرمنی کی ریاست بویریا کی سماجی بہبود کی وزیر ایمیلیا میولر نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں اس سال گیارہ لاکھ کے لگ بھگ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی آمد ہوچکی ہے۔ان میں سے زیادہ تر بویریا کے راستے سے ہی جرمنی میں داخل ہوئے تھے۔انھوں نے ریاست کی جانب سے کہا ہے کہ ہمیں اب امیگریشن کو مؤثر طور پر محدود کرنے کی ضرورت ہے۔