.

امریکا کا ایران کے خلاف میزائل تجربے پر نئی پابندیوں پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی میں معاونت پر بین الاقوامی کمپنیوں اور افراد پر نئی پابندیاں عاید کرنے پر غور کررہی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی میں مشتبہ کردار پر بارہ کمپنیوں اور افراد پر ممکنہ پابندیوں کا امکان ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ کو جولائی میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے شدہ تاریخی معاہدے کے تحت میزائل پروگرام کی ترقی میں کردار ادا کرنے والے ایران کے اداروں کو بلیک لسٹ کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ دوسری جانب ایک ایرانی عہدے دار کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اس طرح کی پابندیوں کو جوہری معاہدے کی خلاف ورزی سمجھیں گے۔

اوباما انتظامیہ کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ ''ہم ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مسلسل کام اور اس کے 10 اکتوبر کے تجربے کے پیش نظر اضافی اقدامات پر غور کررہے ہیں۔اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپنے قومی سلامتی کے مفادات کے مطابق سفارتی کام کررہے ہیں''۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے حال ہی میں اپنی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے 10 اکتوبر کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جس عماد راکٹ کا تجربہ کیا تھا،وہ ایک بیلسٹک میزائل تھا،وہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کی خلاف ورزی تھا۔

سفارت کار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی پابندیاں لگانے کی ذمے دار کمیٹی مزید ایرانی افراد اور اداروں کو اس میزائل تجربے پر بلیک لسٹ کرسکتی ہے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ چین اور روس ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیوں کو مسترد (ویٹو) کرسکتے ہیں کیونکہ وہ اس اقدام کی مخالفت کررہے ہیں۔واضح رہے کہ ایران نے مغربی ممالک کے اس تجزیے سے اختلاف کیا ہے کہ عماد میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتاہے۔