.

سرطان میں مبتلا روسی دوشیزہ خودکش حملہ کرنا چاہتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ممالک کی پولیس ان دنوں ایک روسی نژاد دوشیزہ کی تلاش میں ہے جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ سرطان کی مریضہ ہے اور طبعی موت مرنے کے بجائے خودکش بم دھماکے کا ارادہ رکھتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے برطانوی اخبار’’ڈیلی ایکسپریس‘‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ 21 سالہ دوشیزہ کی شناخت Oygul M کے نام سے کی گئی ہے جو #ماسکو سے 1000 کلومیٹر دور Rostov-on-Don نامی شہر کی رہائشی ہے۔ یورپی پولیس کو اس کے بارے میں یہ شبہ ہے کہ اس نے خود کو شامی پناہ گزین ظاہر کر کے شدت پسندوں کے ایما پر خودکش بم دھماکہ کرنا چاہتی ہے۔ اس وقت وہ دماغ کے کینسر کا شکار ہے اور اس کا مرض اب آخری مراحل میں ہے۔

رپورٹ کے مطابق ویگول کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ اس وقت جمہوریہ جارجیا کے قوقاز کے علاقے سے 29 سالہ ایک ترک شدت پسند کے ہمراہ روپوش ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مذکورہ خاتون شدت پسند دو مزید عسکریت پسندوں کے ہمراہ یورپ اور دوسرے ملکوں کے سفر بھی کرچکی ہے۔

’’اویگول‘‘ کی والدہ بارنو نے روسی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس کی بیٹی کی ایک مصری کی اہلیہ ہے جو دماغی کینسر کے باعث قاہرہ کے اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ والدہ نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس کی بیٹی خودکش حملہ کرنا چاہتی ہے۔ اس کا کہنا ہے اویگول کو ماسکو کے ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق قاہرہ منتقل کیا گیا ہے۔ ایک دوسرے ذریعے کے مطابق بعض روسی ڈاکٹروں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ’’اویگول‘‘ داعش کے طریقہ واردات کے مطابق خودکش حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ وہ کینسر کی وجہ سے سسک سسک کر مرنے کے بجائے خود کو ایک دھماکے میں اڑا دے۔

برطانوی اخبار’’ڈیلی ایکسپریس‘‘ نے اپنی رپورٹ میں اس خبر کے ذرائع کا حوالہ نہیں دیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ اس نے مذکورہ لڑکی کی تصویر کہاں سے حاصل کی ہے۔ اسی طرح کی ایک خبر برطانوی اخبار’’ڈیلی مرر‘‘ نے بھی شائع کی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ڈیلی ایکسپریس کے اشارے کے مطابق جارجیا کی ویب سائیٹس کا مطالعہ کیا جہاں سے اس لڑکی کی تصویر نہیں مل سکی ہے۔