.

عراقی پناہ گزین بچیاں جنسی درندگی کا شکار بن رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#عراق کے سپریم انسانی حقوق کمیشن نے اپنی ایک رپورٹ میں پناہ گزین کیمپوں میں کم عمر خواتین اور بچیوں کے ساتھ جسمانی اور جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافے کا انکشاف کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق ہائی کمیشن کی رپورٹ جلد ہی عراقی پارلیمنٹ میں بحث کے لیے بھی پیش کی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ترک خبر رساں ایجنسی ’’اناطولیہ‘‘ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عراق کے مختلف شہروں میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں آنے والے خاندانوں میں اوسطا فی خاندان 5 بچے ہیں۔ ان پناہ گزین کیمپوں میں آنے والی کم عمر بچیوں اور دیگر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں اور جسمانی تشدد جیسے مکروہ اقدامات کا بھی سامنا ہے۔

انسانی حقوق ہائی کمیشن کی خاتون رکن انتصار العبیدی نے بتایا کہ جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے خوف سے پناہ گزین کیمپوں میں آنے والے لوگ اپنی 9 اور 10 سال کی کم عمر بچیوں کی شادیاں کرانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عراق میں 18 سال سے کم عمر بچیوں کی شادیوں پر پابندی ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 3 سے 10 سال تک قید ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق عراق میں 2014 اور 2015ء کے دوران ملک کے شمالی علاقوں میں جاری خانہ جنگی اور داعش کے حملوں کے خوف سے 32 لاکھ افراد گھر بار چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لینے پرمجبور ہوئے تھے۔