.

تارکینِ وطن کی آمد جرمنی کے لیے ایک موقع ہے: مرکل

شک میں مبتلا جرمن نسل پرستی پر مبنی نفرت پھیلانے والوں کی بات نہ سنیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے نئے سال کے آغاز پر اپنی تقریر میں اپنے ہم وطنوں پر زوردیا ہے کہ وہ مہاجرین کی جوق درجوق ملک میں آمد کو کل کے لیے ایک موقع سمجھیں۔انھوں نے شک میں مبتلا جرمنوں پر زوردیا ہے کہ وہ نفرت کے پرچارک نسل پرستوں کی پیروی نہ کریں۔

ان کی اس تقریر کا متن اس کے نشر ہونے سے پہلے جمعرات کو جاری کیا گیا ہے۔انھوں نے سالِ نو پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ گذشتہ سال غیرمعمولی چیلنجز کا حامل تھا اور مزید مشکلات آنے والی ہیں لیکن بالآخر اس سے فائدہ ہی ہوگا کیونکہ ملکوں کو کامیاب امیگریشن سے اقتصادی اور سماجی طور پر فائدہ ہی پہنچتا ہے۔

انھوں نے دائیں بازو کی جانب سے تارکینِ وطن مخالف ریلیوں کے انعقاد پر کہا کہ ''ہم خود کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی پیروی نہ کی جائے جن کے دلوں میں نفرت ہے اور جو صرف جرمنوں ہی کی ملک میں آبادکاری حامی ہیں''۔

اینجیلا مرکل کو لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن اور مہاجرین کو ملک میں پناہ دینے پر بیک وقت تحسین و تنقید کا سامنا ہے۔انھوں نے اپنی تقریر میں بھی اس جانب اشارہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ پہلا سال گزرا ہے جب ہمیں اتنے بڑے چیلنج کا سامنا ہوا اور ہم اپنے الفاظ کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب رہے ہیں۔

انھوں نے رضاکاروں ،پولیس ،فوجیوں اور منتظمین کا ان کی غیر معمولی کارکردگی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اپنی ڈیوٹی سے بڑھ کر خدمات انجام دی ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں آنے والے لوگوں کو پناہ دینے کے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے جرمنوں پر زوردیا ہے کہ وہ کھلے پن اور کھلے ذہن کا مظاہرہ کریں کیونکہ مہاجرین کی آمد سے کل کلاں انھیں فائدہ ہی پہنچے گا۔

جرمنی نے اس سال کے دوران یورپی یونین کے رکن کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ تارکینِ وطن کو اپنے ہاں پناہ دی ہے۔2015ء کے پہلے حصے میں جنوب مشرقی یورپ کے ممالک البانیا ، کوسوو اور سربیا سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں کی جرمنی میں آمد ہوئی تھی۔جرمن ریاست بویریا کی سماجی بہبود کی وزیر ایمیلیا میولر نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک میں 2015ء کے دوران گیارہ لاکھ کے لگ بھگ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی آمد ہوئی ہے۔ان میں سے زیادہ تر بویریا کے راستے سے ہی جرمنی میں داخل ہوئے تھے۔ان میں نصف کے لگ بھگ شامی مہاجرین ہیں۔