.

ایرانی صدر کی میزائل پروگرام کو ترقی دینے کی ہدایت

امریکی حکومت ایران مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اورغیر قانونی مداخلت کررہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کے خطرے کے باوجود اپنے وزیردفاع کو میزائل پروگرام کو ترقی وتوسیع دینے کا حکم دیا ہے۔

صدر روحانی نے وزیردفاع حسین دہقان کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ ''امریکی حکومت واضح طور پر ایران مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور غیر قانونی مداخلت کررہی ہے۔اس لیے مسلح افواج کو اپنی میزائل صلاحیت کو فوری اور نمایاں طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے''۔

یہ خط ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے شائع کیا ہے اور اس میں صدر حسن روحانی نے مزید کہا ہے کہ ''وزارت دفاع کو مسلح افواج کی مدد و حمایت کی ساتھ تمام دستیاب وسائل سے نئے پروگراموں پر عمل پیرا ہونے اور ملک کی میزائل صلاحیت کو بہتر بنانے کی ذمے داری سونپی جاتی ہے''۔

قبل ازیں جمعرات کو یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی میں معاونت پر بارہ بین الاقوامی کمپنیوں اور افراد پر نئی پابندیاں عاید کرنے پر غور کررہی ہے۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے حال ہی میں اپنی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے 10 اکتوبر کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جس عماد راکٹ کا تجربہ کیا تھا،وہ ایک بیلسٹک میزائل تھا،وہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کی خلاف ورزی تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ کو جولائی میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے شدہ تاریخی معاہدے کے تحت میزائل پروگرام کی ترقی میں کردار ادا کرنے والے ایران کے اداروں کو بلیک لسٹ کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ دوسری جانب ایک ایرانی عہدے دار کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اس طرح کی پابندیوں کو جوہری معاہدے کی خلاف ورزی سمجھیں گے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابر انصاری نے امریکا کی جانب سے اضافی پابندیاں عاید کرنے کے منصوبے کی مذمت کی ہے اور ان پابندیوں کو غیرقانونی اور انتقامی قرار دیا ہے۔

ایران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2010ء میں منظور کردہ قرارداد نمبر 1929 کے تحت میزائل پروگرام کو ترقی دینے پر پابندی عاید ہے اور یہ پابندی ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد تک مؤثر رہے گی لیکن اس پابندی کے ختم ہوجانے کے باوجود سلامتی کونسل کی جولائی میں منظور کردہ ایک اور قرار داد کے تحت ایران بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے لیے آٹھ سال تک کوئی کام نہ کرنے کا پابند ہے۔