.

ڈونلڈ ٹرمپ کا منہ کون بند کرے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں سرگرداں ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس کے مجوزہ صدارتی امیدوار اپنی انتخابی مہم پورے دھڑلے سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہر امیدوار کا اپنے حامیوں کو متاثر کرنے اور ووٹ بنک بڑھانے کا اپنا مخصوص طریقہ کار ہے، مگر اسی دوڑ میں شامل ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی انتخابات کے امیدوار بننے کے لیے کوشاں رئیل اسٹیٹ کے ’ٹائیکون‘ ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنا ہی لب ولہجہ اور انداز تکلم ہے۔ موصوف مسلمانوں کے حوالے سے کچھ زیادہ ہی حساس واقع ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں امریکا سمیت دنیا بھر میں جو بھی برائی موجود ہے اس کے پیچھے کسی نہ کسی شکل میں مسلمانوں کا ہاتھ ہے۔ مسلمان یا عام امریکی کیا خود پارٹی کی اکثریٹ ٹرمپ کے خیالات سے متفق نہیں مگر صدارتی امیدوار اپنی ڈھٹائی پر مُصر ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے امریکا میں صدارتی انتخابات کے لیے جاری مُہم اور ڈونلڈ ٹرمپ کو متنازع خیالات کے اظہار سے روکنے کے حوالے سے ایک تجزیاتی رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے اور بتایا کہ آیا کون سا صدارتی امیدوار مسٹر ٹرمپ کی زہرافشانی کو روکتے ہوئے ان کا منہ بند کرا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا شہنشاہ بننے کی دوڑ میں اترنے والے ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز ’’دُشمن‘‘ کے خلاف’’جنگ‘‘ کے عنوان سے کیا۔ گوکہ امریکی مخالفت کے رد عمل پر مبنی جذبات ان کی پارٹی کے امیدوار فلوریڈا ریاست کے سابق گورنر جیب بُش اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن بھی رکھتی ہیں مگر انہوں نے کھل کر مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا ہے۔

جہاں تک سابق امریکی صدر جارج بُش اول کے صاحبزادے جارج بش جونیر کے بھائی جیب بش کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنے انتخابی ڈھانچے کی تشکیل نو کا اعلان کر رکھا ہے۔ اُنہوں نے فلوریڈ ریاست میں سرگرم اپنے پارٹی کارکنوں اور دیگرافراد و فلوریڈا میں اپنی انتخابی مہم کے مرکز میں منتقل کرنا شروع کیا ہے۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مناظرے کا بھی چیلنج دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا مناظرہ صرف ٹرمپ کے ساتھ ہو گا، دیگر امیدواروں کے بارے میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرمپ نے جیب بش کےمناظرے چیلنج کو یکسر نظرانداز کر دیا ہے۔

دو ماہ قبل جب آیوا ریاست میں ری پبلیکن پارٹی میں صدارتی امیدواروں کے لیے ابتدائی رائے شماری کی گئی تو اس رائے شماری نے ری پبلیکن کے کانگریس اور مختلف ریاستوں میں موجود کئی ’’مقبول‘‘ رہ نماؤں کا بھی دھڑن تختہ کر دیا۔ ری پبلیکن پارٹی کے منجھے ہوئے سیاست دانوں اور دیرینہ سیاسی کارکنوں کا مقابلہ رئیل اسٹیٹ کی دنیا سے تعلق رکھنے والے غیر سیاسی پس منظر کے حامل ڈونلڈ ٹرمپ کو زیادہ اہمیت دی گئی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ری پبلیکن سینٹراور ایوان نمائندگان کے نئے رُکن سینٹر ٹیڈ کروز کے بارے میں بھی بہت سوں کا خیال تھا کہ ان کا پس منظر سیاسی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بھی پارٹی کے اندر سے ہونے والی تنقید سے نہیں بچ سکے۔ اس تنقید نے انہیں بھی ایوان نمائندگان میں تنہا کر دیا۔

ریاستوں میں امیدواروں کے چناؤ کے لیے پہلے مرحلے کی رائے شماری کے قریب آتے ہی ری پبلیکن قیادت کے خدشات بھی کھل کر سامنے آئے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے امیدوار بننے کے امکانات تقویت پکڑنے لگے ہیں۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے پارٹی میں گہرے اختلافات پیدا ہوئے۔ اس اختلاف نے ہیلری کلنٹن کے لیے وائیٹ ہاؤس میں داخلے کے لیے امکانات روشن کر دیے۔

نئے سال کی تقریبات اور کرسمس کی سرگرمیوں سے بھی انتخابی مہم پر کوئی اثرنہیں پڑا۔ صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند تمام امیدوار پورے دھڑلے کے ساتھ انتخابی مہم چلاتے رہے ہیں۔ تاہم ری پبلیکن پارٹی کی قیادت ٹرمپ اور ٹیڈ کروز جیسے امیدواروں کی حامی نہیں۔ اس مخالفت نے پارٹی کا ووٹ بنک بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ پارٹی کی صفوں میں پائی جانے والی تقسیم اور اختلافات سے پارٹی کے باہر سے ملنے والے ووٹ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس صورت حال کا فائدہ ٹرمپ اور کروز کو ہو گا اور وہ بدستور ری پبلیکن پارٹی کے چوٹی کے امیدواروں میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں۔ فی الحال ان میں سے کسی ایک امیدوار کے دستبردار ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔

ری پبلیکن پارٹی میں پائی جانے والی تقسیم کی لکیر سے صدارتی انتخابات کی دوڑ کا جو نقشہ بن رہا ہےاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایت پسند امیدوار ٹیڈ کروز اور ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنے کے لیے بڑے ڈونرکے مال کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا ثبوت جیب بش اور کریس کرسٹی کی جانب سے سینٹر مارکو روبیو پر ہونے والی تنقید سے بھی نمایاں ہو رہا ہے۔ مارکو روبیو کا اپنا سیاسی تجربہ بھی محدود ہے کیونکہ وہ ایوان نمائندگان میں پہلی مدت پوری کرنے سے بھی قبل ہی سبکدوش ہو گئے تھے۔ روبیو جیب بش کی طرح تند و تلخ لہجے کے بجائے شستہ اور نرم لہجے میں بات کرتے ہیں، کرسٹی کی طرح کڑوے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے مالی معاونت کاروں اور بعض قائدین کی نظروں میں ان کا احترام ہے۔ اس کے باوجود ان کا شمار ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد دوسرے اور تیسرے درجے کے امیدواروں میں ہوتا ہے۔

قطع نظر اس بات کہ ری پبلیکن پارٹی کس کو اپنا احتمی امیدوار نامز کرے گی یہ حقیقت واضح ہے کہ پارٹی کے صدارتی امیدوار کو جماعت میں تقسیم کا نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ری پبلیکن قیادت متشدد خیالات کے حامل اور موقع پرستوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ انہی کی وجہ سے صدر اوباما اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں کےحوالے سے وضع کردہ پروگرامات کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا پائے کیونکہ انہوں نے قدم قدم پر اوباما کی راہ میں روڑے اٹکائے ہیں۔ اوباما کی پالیسیوں کے مخالفین کا کہنا ہے روس کے مقابلےمیں عالمی سطح پر امریکی اثرو نفوذ میں کمی آئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیڈ کروز جیسے امیدواروں نے صدر اوباما کی انہی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ان کی راہ روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے تارکین وطن کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور اسے امریکا کے لیے خطرہ بنا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ امریکی حکومت کی دوسرے ملکوں کو دی جانے والی امداد بھی ان کی تنقید کی زد میں رہی۔

دوسری جانب ڈیموکریٹس میں سابق وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن اپنا پہلا نمبر قائم رکھنے میں کامیاب ہیں۔ انہوں نے اپنے سلجھے ہوئے انداز بیان اور متوازن انتخابی مہم کے دوران خود کو ڈیموکریٹس کی باضابطہ امیدوار ثابت کیا ہے۔ ان کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ خود کو ری پبلیکن کا باضابطہ امیدوار پیش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا غیرمہذب رویہ نہ صرف مسلمانوں کے حوالے سے ہے بلکہ انہوں نے سابق صدر بل کلنٹن کے جنسی اسکینڈلز کو بھی زیربحث لا کر خود کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔