.

اسرائیلی زندانوں میں 7 ہزار فلسطینی پابند سلاسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#فلسطین میں قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سنہ 2015ء کے اختتام پر اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید فلسطینیوں کی تعداد 7 ہزار رجسٹرڈ کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق گروپ کلب برائے اسیران کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں زیرحراست فلسطینی خواتین اور مردوں کی تعداد 6 ہزار 815 تک جا پہنچی ہے۔ محروسین میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہروں، مقبوضہ #بیت_المقدس اور #غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے شہری بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ قیدیوں کی عمریں 10 سے 73 برس کے درمیان ہیں۔ پچھلے سال اسرائیلی فورسز نے 200 کم عمر فلسطینی بچوں اور 200 خواتین کو حراست میں لیا۔ گوکہ بعد ازاں ان میں سے بیشتر کو رہا کردیا گیا تھا۔ اب بھی اسرائیلی قید خانوں میں پابند سلاسل بچوں کی تعداد 450 اور خواتین کی 57 بتائی جاتی ہے۔ چھ سو فلسطینی انتظامی قید کے تحت زندانوں میں قید ہیں۔ جنہیں محض شبے کی بنیاد پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل میں انتظامی حراست کا قانون برطانوی سامراج کے دورکی یادگار ہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی فلسطینی کو محض شبے کی بنیاد پر کم سے کم تین ماہ کے لیے حراست میں لیا جاسکتا ہے۔ بعد ازاں اس کی مدت حراست میں بار بار توسیع کی جاسکتی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے 2015ء کے دوران 1248 فلسطینوں کو انتظامی قید کی سزائیں سنائیں جب کہ پہلے سے اس سزا کے تحت قید کیے گئے 498 قیدیوں کی سزا کی تجدید کی گئی۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام 2016ء کا استقبال ایسے حالات میں کررہے ہیں جب ان کے سات ہزار پیارے دشمن کی جیلوں میں بند ہیں۔

درایں اثناء صہیونی فوج نے تحویل میں رکھے 23 فلسطینی شہداء کے جسد خاکی ان کے ورثاء کے حوالے کردیے ہیں۔ ان فلسطینیوں کو یکم اکتوبر 2015ء کے بعد مختلف کارروائیوں کے دوران شہید کیا گیا تھا۔