.

جی سی سی : دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

چھے خلیجی عرب ریاستوں پر مشتمل کونسل کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''جی سی سی سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وہ ایران کو ذمے دار قرار دے دیتی ہے''۔

سیکریٹری جنرل نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا ہے کہ جی سی سی ایران کو کس معاملے کا ذمے دار قرار دیتی ہے۔دہشت گردی کا یا دوسرے ممالک میں مداخلت کا؟البتہ ان کا یہ بیان سعودی عرب میں ہفتے کے روز دہشت گردی کے جرم میں ایک شیعہ مبلغ سمیت سینتالیس مجرموں کے سرقلم کیے جانے پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل کے جواب میں سامنے آیا ہے۔

ایران کے بعض سیاستدانوں اور عہدے داروں نے شیعہ مبلغ نمر النمر کا سرقلم کیے جانے پر سعودی عرب کے خلاف تند وتیز بیانات جاری کیے ہیں اور تہران میں مشتعل ایرانی مظاہرین نے سعودی سفارت خانے کو آگ لگا دی تھی۔مشہد میں قائم سعودی قونصل خانے پر بھی مشتعل ہجوم نے اتوار کے روز دھاوا بولا ہے۔

درایں اثناء کویت نے بھی سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔اردن نے ایران میں سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے پر مشتعل مظاہرین کے حملوں کی مذمت کی ہے اور ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کی ننگی خلاف ورزی قراردیا ہے۔

اردن کے وزیرمملکت برائے میڈیا امور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور ایران کی دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی مذمت کرتا ہے۔