.

سعودی سفارت خانے پر حملہ، یواے ای کا ایران سے احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) نے تہران میں مشتعل مظاہرین کے سعودی سفارت خانے پر حملے کے ردعمل میں ایرانی سفیر کو طلب کیا ہے اور ان سے سخت احتجاج کیا ہے۔

یواے ای کی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ایرانی سفیر محمد رضا فیاض کے حوالے ایک احتجاجی مراسلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات بین الاقوامی کنونشنوں ،سفارتی آداب اور اقدار کے منافی ہیں۔

اس مراسلے میں ایران کی سعودی عرب کے داخلی امور میں مداخلت پر سخت احتجاج کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ خلیجی ریاستیں اور خاص طور پر بحرین پہلے بھی ایران پر اپنے داخلی امور میں مداخلت کے الزامات عاید کرتا رہا ہے۔

۔سعودی عرب کی مختلف جیلوں میں ہفتے کے روز سینتالیس دہشت گردوں کے سرقلم کیے گئے ہیں۔ان میں ایک معروف شیعہ مبلغ نمر النمر بھی شامل تھا۔ ایرانی حکومت کے مختلف عہدے داروں اور عوام کی جانب سے اس شیعہ عالم کا سرقلم کیے جانے کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور تہران میں مشتعل بلوائیوں نے احتجاجی مظاہرے کے دوران سعودی عرب کے سفارت خانے کو پیٹرول بم چھڑک کر آگ لگادی تھی۔

مشتعل مظاہرین نے پہلے سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔انھوں نے عمارت سے فرنیچر کو نکالا اور اس کو آگ لگادی تھی۔پھر کہیں پولیس نے انھیں سفارت خانے کی عمارت سے باہر نکالا تھا۔اس وقت سفارت خانے میں سفارتی عملے کا کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔ایرانی مظاہرین نے بالکل اسی انداز میں اتوار کے روز مشہد میں قائم سعودی قونصل خانے پر دھاوا بولا ہے اور اس کو نقصان پہنچایا ہے۔

دریں اثناء چھے خلیجی عرب ممالک پر مشتمل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے ایک بیان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور اس کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔