.

القاعدہ، ایران دہشت گردوں سے قصاص لینے پر معترض کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گردی میں ملوث 47 مجرموں، بشمول ایران نواز شیعہ عالم نمر النمر، کو سزائے موت دینے پر ایران اور اس کے ساتھی سعودی عرب کا یہ دہشت گردوں کو سزا دینے کا حق تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ دہشت گردوں کو پھانسی دینے پر ایران کے دوست اس وقت 'القاعدہ' کے ساتھ ملکر سعودی عرب کے خلاف آواز بلند کر ہے ہیں۔

خامنہ ای، لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ، یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی، سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی اور المقدسی سعودی شہریوں کو دہشت گردی کے الزام میں دی جانے والی سزائے موت پر مل کر احتجاج کر رہے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ میں نمر النمر کی سزائے موت کو شیعہ مسلک کا پیروکار ہونے کی وجہ سے نمایاں کیا جا رہا ہے جبکہ ان ہی کی طرح 43 دوسرے سزائے موت پانے والوں کا ذکر گول کیا جا رہا ہے جبکہ اس تمام کو ایک ہی جرم دہشت گردی اور سیکیورٹی اہلکاروں سے جھڑُپوں کی پاداش میں سزا سنائی گئی۔ یہ لوگ پرامن داعی نہیں تھے۔

تہران میڈیا شیعہ رہنما نمر النمر اور القاعدہ کے نظریاتی پرچارک فارس آل شویل اور دیگر جنگجوؤں کے درمیان تقابل نہیں کر رہا حالانکہ النمر کئی بار سعودی سیکیورٹی فورسز کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اپیلیں کرتا رہا ہے اور اسے ایک مسلح جھڑپ کے دوران زخمی حالت ہی میں گرفتار کیا گیا۔

نہ ہی ایرانی میڈیا آل شویل اور نمر النمر کے درمیان اس موازنے کو تیار ہے کہ اول الذکر نمر پر کفر کا الزام عاید کر چکے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کو غیر مسلم قرار دیتے تھکتے نہیں تھے، تاہم ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کے حاشیہ بردار مل کر سعودی عرب کے خلاف فتوی صادر کر رہے ہیں اور اس کے جائز قانونی حق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

ایرانی میڈیا النمر کو "آیت اللہ" کا لقب دے رہے ہیں۔ یہ علمی مقام وہ کسی مجتھد یا خطیب کو دینے کو تیار نہیں۔ النمر کی علمی خدمات کا تو علم نہیں تاہم حکومت کے خلاف ان کی تقاریر کی ویڈیو اور مقالے ان کی علمی قدر ومنزلت کا پتا ضرور دیتے ہیں۔ بعینہ القاعدہ بھی اپنی 'مبلغین' کو 'علامہ' اور 'محقق' جیسے غیر دقیق القابات سے یاد کرتی ہے۔

ایرانی میڈیا سعودی عرب پر دہشت گردی کا الزام عاید کرتے نہیں تھکتا حالانکہ امریکی دفتر خارجہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں دہشت گردی کی سب سے زیادہ حمایت کرنے والا ملک ایران ہے۔

ایران کا سرکاری اور نجی میڈیا اس حقیقت کو نجانے کیوں فراموش کر رہا ہے کہ تہران نے خود اقوام متحدہ میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ 15 مہینوں کے دوران ایران میں 852 افراد کو پھانسی دی گئی، جو دنیا بھر میں دی جانے والی پھانسیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ایران ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے القاعدہ کے حامیوں نے بھی سعودی عرب میں پھانسیوں پر تنقید کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے تجزیہ کار یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی دین اور مذہب نہیں ہوتا۔ سعودی عرب نے دہشت گردی کے الزام میں اپنے ہی شہریوں پر اپنے قانون کا اطلاق کیا ہے تو ایسے میں دوسرے ملکوں کو کیونکر اس پر اعتراض ہو رہا ہے؟