.

"سعودی سفارتخانے پر حملہ ویانا کنونشن کی خلاف ورزی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی کا کہنا ہے کہ #تہران حکومت کا #ایران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد شہر میں سعودی قونصل خانے کے تحفظ میں ناکام ہو جانا، اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ ایران 1961 کے ویانا کنونشن اور بین الاقوامی قانون کا پابند رہنے میں انتہائی کوتاہی کا مرتکب ہوا ہے۔

انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف مملکت کی جانب سے جاری ہونے والے شرعی احکامات (سزاؤں) کے حوالے سے ایران کے اشتعال انگیز بیانات کی سخت مذمت کی۔ الزیانی کے خیال میں ان بیانات نے "سعودی سفارتی مشنوں پر حملوں کے لیے حوصلہ افزائی کی۔" عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نبیل العربی نے بھی (ویانا) کنونشن کے حوالے کم وبیش اسی طرح کی بات کی ہے۔

18 اپریل 1961 کو آسٹریا کے دارالحکومت میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے "ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات" پر دستخط کیے۔ اس کے تحت رکن ممالک اپنی سرزمین پر غیر ملکی مشنوں کو تحفظ فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ بالخصوص آرٹیکل 22 جس کے متن کو العربیہ نیٹ مکمل صورت میں پیش کررہا ہے۔ یہ ہی وہ آرٹیکل ہے جو سعودی سفارت خانے اور اس کے قونصل خانے کی عمارت میں ہونے والے واقعات پر ایران کی جانب سے آنکھیں موند لینے کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ اس آرٹیکل کا متن 3 نکات پر مشتمل ہے، جو مندرجہ ذیل ہیں:

1- سفارتی مشن کی عمارت ناقابل ِ تخلّف ہوگی، میزبان ملک کے اہل کار کسی طور بھی سفارتی مشن کے سربراہ کی اجازت کے بغیر عمارت کے اندر داخل نہیں ہو سکتے۔

2- میزبان ملک پر لازم ہے کہ وہ ایسے تمام اقدامات کو یقینی بنائے جن کے ذریعے سفارتی مشن کے زیر انتظام عمارت اور متعلقات کو کسی بھی دھاوے اور نقصان سے یا پھر مشن کے امن اور وقار میں خلل اندازی کو روکا جا سکے۔

3- سفارتی مشن کی عمارت اور متعلقات، اس میں پائی جانے والی دیگر اشیاء اور آمدورفت کے وسائل، یہ تمام کی تمام تلاشی اور زیر حراست لیے جانے سے مستثنیٰ ہوں گی۔

ایران کی جانب سے سرکاری طور پر چشم پوشی کا اظہار اس وقت سامنے آیا جب (سعودی عرب میں) دہشت گردی کے الزام میں نمر باقر النمر اور دیگر 46 افراد کی سزائے موت کے خلاف احتجاج کرنے گروپوں نے تہران میں سعودی سفارت خانے کی عمارت پر دھاوا بول کر اس کو آگ لگادی اور مشہد شہر میں سعودی قونصل خانے پر حملہ کرکے اس کے شیشے توڑ ڈالے۔ بلا شبہ یہ سفارتی تعلقات کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔

یہ معاہدہ جس پر گزشتہ سال تک 190 ممالک دستخط کرچکے ہیں، خودمختار ریاستوں کے درمیان سفارتی تعلقات کا ایک فریم متعین کرتا ہے۔ ساتھ ہی سفارتی مشن کی امتیازی خصوصیات بھی بیان کرتا ہے، جن کے تحت مشن کے ارکان میزبان ملک کی جانب سے بنا کسی مداخلت کے، بے خوف و خطر اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھ سکتے ہیں اور ان کو قانونی طور پر خصوصی استثناء بھی حاصل ہوتا ہے۔