.

سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے

ایرانی سفیر سمیت تمام سفارتی عملے کو 48 گھنٹوں میں مملکت چھوڑنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے ایران کے تمام سفارتکاروں کو مملکت سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ اس امر کا اعلان سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کیا۔

عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک ایرانی سفارتی مشن کے تمام عملے کو 48 گھنٹوں کے اندر سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے سعودی عرب میں ایرانی سفیر کو اس امر کی اطلاع دینے کے لئے دفتر خارجہ طلب کیا ہے۔

وہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس میں انہوں نے تہران میں سعودی سفارتخانے اور مشہد میں سعودی قونصل خانے پر حملے کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں سعودی سفارتی مشنز پر حملے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ایرانی حکومت سفارتی مشنز پر حملوں کی ایک لمبی تاریخ رکھتی ہے۔ اس سے پہلے ایرانیوں نے امریکا اور برطانیہ کے سفارتخانوں پر بھی حملے کئے۔

اعلی سعودی سفارتکار نے الزام عاید کیا کہ ایران القاعدہ کے رہنماوں کو تحفظ دیتا ہے اور ان کی اسلحہ سمگلنگ میں مدد بھی کرتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاض دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مشترکہ عرب کوششیں جاری رکھے گا اور انتہا پسند ختم کرنے کے لئے اسلامی ملکوں کا اتحاد تشکیل دے گا۔

سعودی عرب کے ایران میں سفارتی مشن سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے عادل الجبیر نے کہا کہ مشن کے ارکان اب دبئی پہنچ چکے ہیں۔ "ہم ایران کو اپنی سلامتی اور علاقے کے استحکام کے لئے خطرہ بننے والوں کی مزید حمایت کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس لئے سعودی وزارت خارجہ نے ایرانی سفیر کو تمام سفارتی عملے کے ساتھ سعودی عرب چھوڑنے کا پروانہ تھما دیا ہے۔