.

"اسلامی جمہوریہ ایران میں سالانہ چھ کروڑ لیٹر شراب پی جاتی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران میں سالانہ بنیادوں پر چھ کروڑ لیٹر شراب پی جاتی ہے۔ یہ بات ایک سرکاری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے اور ایران میں الکوحل استعمال کرنے پر قانوناﹰ پابندی عائد ہے۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران میں شراب نوشی پر عائد پابندی کے باوجود اس اکثریتی طور پر شیعہ اسلامی ملک میں ہر سال 60 ملین (چھ کروڑ) لٹر شراب پی جاتی ہے۔

تہران میں ملکی وزارت برائے محنت اور سماجی امور کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شراب نوشی پر مختلف سزائیں سنائے جانے کے باوجود ملک میں الکوحل کے استعمال پر مکمل طور پر پابندی عائد نہیں کی جا سکی۔

مروجہ قوانین کے تحت ایران میں شراب کی فروخت، اسے خریدنے، پینے اور کسی بھی شکل میں اس کا کاروبار کرنے پر پابندی عائد ہے۔

اس ایرانی وزارت کے ایک کمیٹی کے مطابق سزاؤں کے ڈر سے ایران میں شراب نہ تو کھلے عام دوکانوں پر فروخت کی جاتی ہے اور نہ ہی عوامی محفلوں میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم نجی محفلوں میں شراب نوشی ایک عام سی بات تصور کی جاتی ہے۔

وزارت برائے محنت اور سماجی امور کی طرف سے قائم کردہ ایک کمیٹی کے سربراہ روزبہہ کردونی نے مقامی نیوز ایجنسی "ایسنا" سے گفتگو کرتے ہوئے ملک میں شراب نوشی میں اضافے کو ایک ’پیچیدہ پیشرفت‘ قرار دیا ہے۔

ایران میں شراب بیچنے اور پینے پر بھاری جرمانوں کے علاوہ کوڑے مارنے کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔ لیکن اس تازہ رپورٹ میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ ان سزاؤں کے باوجود ملک میں شراب نوشی کا رجحان کم نہیں ہوا۔

خبر رساں ادارے نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران میں الکوحل کی بلیک مارکیٹ میں ہر قسم کی غیر ملکی شراب دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ اس اسلامی جمہوریہ میں لوگ گھروں میں وائن اور الکوحل والے دیگر مشروبات بھی تیار کرتے ہیں۔