.

سعودی عرب کا ایران سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے پر غور

سعودی شہریوں کے ایران جانے پر پابندی عاید کردی جائے گی: عادل الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک شیعہ عالم کا دہشت گردی کے جُرم میں سرقلم کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے اور سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی کے بعد تجارتی تعلقات منقطع کرنے پر بھی غور شروع کردیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے سوموار کے روز برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''سعودی عرب ایران کے ساتھ فضائی ٹریفک کو معطل کردے گا۔اس کے ساتھ تجارتی تعلقات کو منقطع کر لے گا اور اپنے شہریوں کے ایران جانے پر بھی پابندی عاید کردے گا''۔

البتہ انھوں نے واضح کیا ہے کہ ایرانی زائرین کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں خوش آمدید کہا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ''ایران کو ایک انقلابی کے بجائے ایک نارمل ملک کے طور پر رویہ اپنانا چاہیے اور عالمی اقدار کا احترام کرنا چاہیے،اس کے بعد ہی اس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات بحال ہوسکتے ہیں''۔