.

سعودی ،ایران تنازعہ : تہران سے کویتی سفیر واپس طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ تنازعے اور سعودی سفارت خانے پر مشتعل مظاہرین کے حملے کے بعد کویت نے بھی تہران میں متعیّن اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

کویت کی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں متعیّن ریاستِ کویت کے سفیر کو منگل 5 جنوری کی صبح واپس بلا لیا گیا ہے اور یہ فیصلہ ایرانی مظاہرین کے سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے پر حملوں کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں ایک شیعہ مبلغ کا ہفتے کے روز دہشت گردی کے جُرم میں سرقلم کیے جانے پر ایرانی قائدین اور عوام نے غیرمتوقع ردعمل کا اظہار کیا ہے۔تہران میں مشتعل مظاہرین نے اتوار کو علی الصباح سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور اس کو آگ لگا دی تھی۔اس واقعے کے بعد مشہد میں سعودی قونصل خانے پر حملہ کیا گیا تھا۔ان واقعات کے ردعمل میں سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے اور تہران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

خلیجی عرب ریاست بحرین نے بھی سوموار کو ایران کے ساتھ سفارتی منقطع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ایرانی سفیر کو ملک چھوڑنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا وقت دیا تھا۔بحرین نے سعودی عرب کی طرح ایران پر علاقائی ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی مذمت کی تھی اور ایران پر القاعدہ سمیت دہشت گرد گروپوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

سعودی سفارت خانے پر حملے کے بعد سوڈان نے بھی خرطوم سے ایرانی سفیر کو بے دخل کردیا ہے اور ایران کی خطے میں مداخلت کی مذمت کی ہے۔متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کا درجہ گھٹا دیا ہے اور اپنی سرزمین پر ایرانی سفارت کاروں کی تعداد کم کرنے کے لیے کہا ہے۔