.

’داعش کا قیام اور جنگ 2016ء کی پیش گوئی‘

بلغارین نابینا بڑھیا کی کئی پیشن گوئیاں درست ثابت ہو چکیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گردی اور جنگجوں میں گھرے عرب ممالک اور یورپ سمیت دنیا کے مخلتف خطوں میں کچھ عرصے سے بلغاریہ کی ایک نابینا بوڑھی عورت کی پیشن گوئیوں نے ایک نئی ہلچل پیدا کر رکھی ہے۔ مستقبل میں ہونے والے واقعات کے پیشگی خبریں دینے والی بڑھیا خود حیات نہیں ہیں مگر ان کی بہت سی پیشن گوئیاں سچ ثابت ہو رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بلغاریہ کی آنجہانی بابا وانگا نامی نابینا بوڑھی عورت نے آج سے کئی برس قبل دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے وجود میں آنے کی پیش گوئی کی تھی۔ انہوں نے سنہ 2016ء میں ایک بڑی جنگ کی بھی پیش گوئی کر رکھی ہے تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا رواں سال کون سی ایسی قابل ذکر جنگ چھڑنے والی ہے۔

بابا وانگا کی مشہور زمانہ پیش گوئیوں میں روم میں اسلامی خلافت کے قیام کی پیش گوئی بھی شامل ہے۔ اس کی پیشن گوئیوں کے مطابق روم میں قائم ہونے والی اسلامی خلافت سنہ 1943ء میں امریکا کے ہاتھوں ختم ہو گی جسے انہوں نے’’مسلمانوں کی عالمی جنگ‘‘ کا نام دیا ہے۔

بابا وانگا کون ہیں؟

مستقبل کے حالات واقعات کی پیشن گوئی کرنے والی بلغارین نابینا خاتون کا پورا نام وانگا یا وانگولیا بادیفا دیمیتروفا بتایا جاتا ہے۔ وہ بارہ سال کی تھی جب شدید آندھی اور گردو غبار کے طوفان نے اسے گھیرے میں لے لیا اور وہ مٹی تلے دب گئی۔ اس کے والدین نے اسے نکالا اور آنکھوں سے مٹی صاف کی مگر وہ آندھی کے ہاتھوں اپنی بینائی کھو بیٹھی تھی۔

اس واقع کے کچھ عرصے بعد اس نے دعویٰ کیا کہ بینائی کھو دینے کے بدلے میں قدرت نے اسے مریضوں کو شفایاب کرنے اور مستقبل کی پیشن گوئیوں کی صلاحیت دے دی ہے۔ بابا وانگا کی پیشن گوئیوں نے اسے بلغاریہ میں مشہور کر دیا اور وہ بلغاریہ کی سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ کی مشیرہ بھی رہی۔

چند مشہور پیشن گوئیاں

آنجہانی بابا وانگا نے اپنے ملک میں سیکڑوں واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی پیشن گوئیاں کیں جس پر اسے ’’بلقان کی نوسٹراڈاموس‘‘ کا لقب دیا گیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ غیر مرئی مخلوقات کے سے رابطے میں رہتی ہے جو اسے مستقبل کے بارے میں اہم معلومات مہیا کرتی ہیں۔

خاتون کی پیشن گوئیوں نے اسے نہ صرف مشہور کر دیا بلکہ لاتعداد افراد اس کے مرید ہوتے چلے گئے۔ اس کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ بابا وانگا نے موسمیاتی تبدیلیوں اور سنہ 2004ء میں آنے والے سونامی کی بھی پیشن گوئی کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ سرد علاقے گرم ہوجائیں گے اور ان میں آتش فشاں پھٹنے لگیں گے۔

بوڑھی پیشن گو کے پیروکاروں کا مزید دعویٰ ہے کہ اس نے اپنی وفات سے قبل امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرگیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کی بھی پیش گوئی کی تھی۔ اس نے نائن الیون کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ خوف ، خوف! ہوشیار رہو، امریکا میں فولادی پرندوں کے ٹکرانے سے دو جڑواں بھائی گریں گے۔ بہت خون بہے گا اور بھیڑیے واویلا کریں گے‘‘۔ انٹرنیٹ پر اس کے حوالے سے کئی دوسری پیشن گوئیاں بھی گردش کر رہی ہیں تاہم اس کے پیروکاروں نے ان میں سے بیشتر کی تردید کی ہے۔

اوباما بارے پیش گوئی

بلغارین نابینا خاتون نے امریکا میں سیاہ فام شخص کے صدر بننے کی بھی کی پیش گوئی کی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکا میں کسی سیاہ فام شخص کا کانگریس کا رکن بننا بھی مشکل تھا۔ اس نے اپنی پیش گوئی میں صدر باراک اوباما کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کا 44 واں صدر افریقی نسل کا ایک سیاہ فام شخص ہو گا۔ ساتھ ہی اس کا کہنا تھا کہ وہ سیاہ فام امریکا کا آخری صدر ہو گا۔

اس نے پیشن گوئی کی تھی کہ سنہ 2010ء اور 2016ء کے درمیان ایک ایٹمی جنگ ہو گی جو یورپ کو ویران کر دے گی۔ 2130ء میں انسان فضائی کائنات کی معاونت سے پانی کے اندر بھی اپنی تہذیب وتمدن پہنچانے میں کامیاب ہو گا اور سنہ 3005ء میں مریخ پر لڑائی ہو گی۔

آخری پیشن گوئی

سنہ 1996ء میں اپنی وفات سے قبل بانا وانگا نے پیشن گوئی کی کہ فرانس میں رہنے والی ایک 10 سالہ نابینا بچی اس کی جانشین اور وارث بنے گی اور اس نے وعدہ کیا کہ دنیا جلد ہی اس کے بارے میں جان لے گی۔