.

سلامتی کونسل: ایران میں سعودی ایمبیسی پر حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر مشتعل ایرانی مظاہرین کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ممالک کی جانب سے سوموار کی شب جاری کردہ بیان میں شیعہ مبلغ نمر النمر کا سعودی عرب میں دہشت گردی اور بغاوت کے جرم سرقلم کیے جانے کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔البتہ اس میں ایران پر زوردیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے سفارتی عملے اور املاک کا تحفظ کرے۔

بیان کے مطابق:'' سلامتی کونسل کے رکن ممالک مملکت سعودی عرب کے تہران میں سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،ان حملوں کے دوران میں سفارت خانے اور قونصل خانے میں دراندازی کی گئی اور انھیں شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔

کونسل نے ان حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سفارت خانے اور قونصل خانے کی جائیداد اور اہلکاروں کو تحفظ مہیا کریں اور اس ضمن میں اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کریں۔

کونسل کے ارکان نے طرفین پر زور دیا ہے کہ ''وہ مذاکرات کا راستہ اپنائیں اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں''۔

قبل ازیں سعودی عرب کے اقوام متحدہ میں متعین سفیرعبداللہ المعلمی نے سلامتی کونسل پر زوردیا تھا کہ وہ ایران میں سفارتی تنصیبات اور سعودی سفارت کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

درایں اثناء سعودی عرب نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کے نام ایک خط لکھا ہے اور اس میں گذشتہ ہفتے کے روز نمر النمر سمیت سینتالیس افراد کے دہشت گردی سے متعلق جرائم میں سرقلم کیے جانے کا دفاع کیا ہے۔ سعودی عرب نے لکھا ہے کہ ''انھیں ان کی دانشورانہ، نسلی اور فرقہ وارانہ وابستگی سے قطع نظر شفاف اور منصفانہ ٹرائل کا موقع دیا گیا تھا''۔