.

خواتین کو چھیڑنے والے 'مہاجروں' پر جرمنی کی زمین تنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری اور پناہ گزین پہنچ رہے ہیں وہاں یہ غیر ملکی سماجی جرائم میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ جرمن میڈیا کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے 1000 افراد کی تلاشی میں سرگرداں ہیں جن پر خواتین کو ہراساں کرنے اور چوری ڈکیتی سمیت دیگر اسٹریٹ کرائمز میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے جن مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہےان میں بیشتر عرب اور افریقی نژاد شہری ہیں جو جرمنی میں خواتین کو ہراساں کرنے اور چوری ڈاکیتی جیسے جرائم میں ملوث ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ نئے سال کے آغاز سے ایک روز قبل جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ملک کے مغربی شہر کولونیا کے ایک ریلوے اسٹیشن سمیت کئی مقامات پر خواتین کو ہراساں کیا گیا۔ اس کے علاوہ کئی مقامات پر چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں بھی ہوئی ہیں۔ ان وارداتوں کا شبہ عرب شہریوں اور افریقی نژاد تارکین وطن پر کیا جا رہا ہے جو ملک میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر ہیں یا پناہ گزینوں کی حیثیت سے جرمنی میں رہ رہےہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے امریکی نیوز ویب پورٹل’’Breitbart‘‘ اور جرمن اخبار ’’ڈر ایکسپریس‘‘ میں شائع ہونے والی خبروں کا مطالعہ کیا جن میں بتایا گیا ہے کہ نئے سال کے آغاز سے ایک روز قبل دسیوں خواتین نے پولیس مراکز میں اپنے ساتھ پیش آئے واقعات کی رپورٹس کا اندراج کرایا۔ شکایت کندہ خواتین کا کہنا تھا کہ مشتبہ افراد انہیں جنسی طور پر ہراساں کرتے رہے۔ بعض نے چوری اور ڈکیتی کی بھی شکایات کی ہیں۔ خواتین کا کہنا ہے کہ ان پر حملہ کرنے والے افراد مشرق وسطٰیٰ کے عرب ممالک اور شمالی افریقا کے ملکوں کے باشندے لگ رہے تھے۔

بیلجیم کی سرحد سے متصل کولونیا شہر کے پولیس چیف لولنفنگانگ الپرس نے بھی دسیوں خواتین کی جانب سے کی گئی شکایات کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ پولیس ان مشتبہ عناصر کی تلاش میں ہے جو نئے سال کے موقع پرغیراخلاقی واقعات اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث رہے ہیں۔

پولیس چیف کا کہنا ہے کہ جن افراد کی تلاش جاری ہے ان کی تعداد 1000 بتائی جا رہی ہے جن میں سے بیشتر مشرق وسطیٰ کے عرب ملکوں اور شمالی افریقی ممالک سے بتائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کولونیا کے ایک ریلوے اسٹیشن پر نشے میں دھت 20 سے 40 مشتبہ منچلوں نے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ ان کے موبائل فون اور پرس چھین لیے۔