.

سعودی سفارت خانے پر حملہ ،تہران سے قطری سفیر بھی واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے بھی ایران میں سعودی عرب کے سفارتی مشنوں پر مشتعل مظاہرین کے حملوں کے خلاف احتجاج کے طور پر تہران میں متعی٘ن اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ کے شعبہ ایشیائی امور کے ڈائریکٹر خالد ابراہیم عبدالرحمان آل حمار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''وزارت نے تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملوں کے بعد آج بدھ کی صبح قطری سفیر کو واپس طلب کرلیا ہے''۔

گذشتہ ہفتے کے روز سعودی عرب میں شیعہ عالم نمر النمر کا سرقلم کیے جانے پر مشتعل ایرانی مظاہرین نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور ان کی عمارتوں میں گھس کر آگ لگا دی تھی۔

ایران میں جنیوا کنونشنز کی اس انداز میں کھلے عام پامالی کے ردعمل میں خلیج تعاون کونسل میں شامل چھے میں سے دو سعودی عرب اور بحرین نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔کویت اور اب قطر نے اپنے سفیروں کو تہران سے واپس بلا لیا ہے اور پانچویں ملک متحدہ عرب امارات نے بھی اپنا سفارتی درجہ گھٹا دیا ہے اور ایران کو سفارتی عملہ کرنے کے لیے کہہ دیا ہے جبکہ چھٹے ملک سلطنت آف اومان نے ایران سے تعلقات برقرار رکھنے یا منقطع کرنے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔