.

سعودی اداروں کو کارکردگی جانچ کے لیے میکانزم وضع کرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی شوریٰ کونسل نے سرکاری ایجنسیوں اور اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینےکے لیے نئے معیارات مقرر کرنے پر زور دیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کونسل کے نائب صدر محمد آل جعفری کی سربراہی میں اجلاس میں پبلک مانیٹرنگ بورڈ کو مزید اختیارات دینے کے لیے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ وہ اپنے دائرہ کار میں آنے والے سرکاری اداروں اور ایجنسیوں کی کارکردگی کا مؤثر اور بہتر انداز میں جائزہ لے سکے۔

کونسل کی انسانی حقوق اور اداروں کی نگرانی کی ذمے دار کمیٹی کی چئیرپرسن ڈاکٹر ثریا عبید نے اجلاس میں مانیٹرنگ بورڈ کی سالانہ کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کی جس پر مختلف ارکان نے اپنے اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا۔

کونسل کے معاون نائب صدر یحییٰ آل سامان نے اجلاس میں بورڈ کے دائرہ کار میں آنے والی تمام ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے احتساب کے لیے میکانزم وضع کریں اور اس کو بورڈ کے آن لائن سسٹم کے ساتھ منسلک کریں۔

انھوں نے بتایا کہ کونسل نے دو سال قبل بورڈ آف پبلک مانیٹرنگ ،نیشنل اینٹی کرپشن کمیشن اور بورڈ آف مانیٹرنگ اور انویسٹی گیشن کے ملازمین کی تنخواہوں ،مراعات اور پے اسکیلوں میں یکسانیت لانے کا فیصلہ کیا تھا۔

شوریٰ کونسل نے سعودی کمیشن برائے سیاحت اور قومی ورثہ سے متعلق کمیٹی کی سالانہ رپورٹ کا بھی جائزہ لیا۔ مختلف کارکنان نے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے سیاحتی شعبے کو ترقی دینے کے لیے مزید اقدامات پر زوردیا۔ بعض ارکان نے اس شعبے میں انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے سرمایہ کاروں کو مراعات دینے کا بھی مطالبہ کیا۔بعض ارکان کا کہنا تھا کہ مہنگے ہوٹلوں کے کرایوں میں کمی کے لیے نگرانی کا نظام مؤثر بنانے ضرورت ہے۔

ایک خاتون رکن نے کمیشن برائے سیاحت اور قومی ورثہ پر زوردیا کہ وہ مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور طائف میں مقدس اسلامی مقامات کے تحفظ کو زیادہ اہمیت دے۔ایک اور رکن کی رائے تھی کہ کمیشن کے بجٹ میں آگہی پروگرام کے لیے مختص بجٹ سیاحت کے فروغ کے لیے رقوم سے کہیں زیادہ ہے۔