.

عدن میں دو گورنروں پر ناکام قاتلانہ حملہ، محافظ ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#یمن کے ساحلی شہر #عدن میں لحج اور عدن کے گورنروں کے ایک قافلے پر کار بم حملہ کیا گیا جس میں سینئر عہدیدار بال بال بچے تاہم اس کارروائی میں گورنروں کے دو محافظ ہلاک ہو گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عدن کے علاقے #انماء میں قافلے کو ایک کار بم دھماکے کے ذریعے سے نشانہ بنایا گیا جس میں سات دیگر محافظ بھی زخمی ہوگئے ہیں۔

اس قافلے میں عدن کے نئے گورنر بریگیڈئر عیدروس الزبیدی، شہر کے پولیس چیف جنرل شلال علی شایہ اور قریبی صوبے لحج کے گورنر ناصر الخبجی موجود تھے، جو دھماکے میں محفوظ رہے۔

ذرائع کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے اعلی حکومتی شخصیات عدن کے قریب واقع اماراتی فوجیوں کے ایک کیمپ کے دورے کے بعد واپس آ رہے تھے۔ متحدہ عرب امارات کے فوجی سعودی عرب کی سربراہی میں یمنی باغیوں کے خلاف سر گرم اتحاد میں شامل ہے۔

یاد رہے کہ عیدروس کو ماہ دسمبر میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے ان کے پیش رو جعفر سعد کو #داعش نے ایک دھماکے میں ہلاک کیا تھا۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ حملہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے #القاعدہ کے ایک مقامی رہنما کو حراست میں لئے جانے کے بعد کیا گیا ہے اور بظاہر اسی کارروائی کا ردعمل دکھائی دیتا ہے۔

عدن، یمنی حکومت کا عبوری دارالحکومت ہے اور گذشتہ کچھ عرصے سے یہاں القاعدہ کی موجودگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

حکومت نے پیر کے روز عدن میں ایک مہینے کے لئے رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ اتوار کے روز شدت پسندوں کے ساتھ جھڑُپوں کے نتیجے میں یمن میں کم ازکم 22 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 10 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔