.

استنبول: ترک پولیس کی کرد جماعت کے دفتر میں چھاپہ مار کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ترکی انسداد دہشت گردی پولیس نے #استنبول میں #کرد نواز جماعت کے دفاتر میں چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور وہاں سے بعض افراد کو گرفتار کیا ہے اور دستاویزات اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔

پولیس نے استنبول کے علاقے بے اوغلو میں واقع کرد نواز پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کی جانب جانے والی شاہراہ کو بلاک کردیا تھا جبکہ انسداد دہشت گردی پولیس نے دو گھنٹے تک چھاپہ مار کارروائی کی ہے۔

ترک میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے جماعت کے دفتر سے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں ایچ ڈی پی کی بے اوغلو برانچ کی شریک چئیرپرسن رقیہ دیمیر بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ کرد فوج ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں علاحدگی پسند کرد باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے اور دوسری جانب ترک حکام نے بھی حالیہ ہفتوں کے دوران ایچ ڈی پی کے خلاف قانونی کارروائیوں کے لیے بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

پراسیکیوٹرز نے ایچ ڈی پی کے شریک چئیرمین صلاح الدین دیمریطس اور فیجین یوکسیکداغ کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے جبکہ صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کو حاصل پارلیمانی استثنیٰ ختم کردیا جانا چاہیے۔

ترک حکام کا الزام ہے کہ ایچ ڈی پی کالعدم کردستان ورکز پارٹی ( پی کے کے) کے سیاسی بازو کے طور پر کام کررہی ہے لیکن یہ کرد نواز جماعت اس الزام کی تردید کرتی چلی آرہی ہے۔واضح رہے کہ ترکی اور اس کے مغربی اتحادیوں نے پی کے کے کو دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔

ترک حکومت اور علاحدگی پسند کردستان ورکرز پارٹی کے درمیان جولائی 2015ء میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور کم وبیش روزانہ ہی کرد باغیوں اور ترک سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں یا پھر کرد باغی سکیورٹی فورسز پر بم حملے کررہے ہیں۔

یادرہے کہ پی کے کے اور انقرہ حکومت کے درمیان سنہ 2012ء کے آخر میں امن سمجھوتے پراتفاق ہوا تھا جس کے تحت کرد باغیوں نے سکیورٹی فورسز پر حملے روک دیے تھے اور ان کے خلاف ترک فوج نے بھی مہم بند کردی تھی لیکن ترک حکومت اور کردوں کے درمیان امن مذاکرات میں گذشتہ تین عشروں سے جاری اس تنازعے کے خاتمے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔ 1980ء کے عشرے سے جاری اس خونریزی میں پینتالیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔