.

حزب اللہ کے معاونت کار پر امریکا نے پابندیاں عاید کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خزانہ نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی مالی معاونت کے الزام میں لبنان کی ایک ٹیلی کام کمپنی کے مالک علی یوسف شرارہ پر اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ علی یوسف شرارہ نامی ایک کاروباری شخصیت لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی مالی معاونت کر رہے ہیں ہیں۔ وہ ’’اسپیکٹرم انویسٹمنٹ ہولڈنگ گروپ‘‘ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین ہیں۔ یہ کمپنی مشرق وسطیٰ، یورپ اور مغربی افریقا کے کئی ممالک میں ٹیلی کمیونیکیشن شعبے میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ حزب اللہ سے تعلق اور تنظیم کو مالی معاونت فراہم کرنے کے الزام میں شرارہ اور اس کے گروپ کو بلیک لسٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حزب اللہ کو علی یوسف شرارہ کی جانب سے سالانہ کئی ملین دالر کی رقم حاصل ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے سنہ 1995ء میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پر پابندیاں عاید کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پچھلے سال دسمبر میں امریکی کانگرس کی جانب سے حزب اللہ پر نئی اقتصادی پابندیوں کے بل کی منظوری کے بعد یوسف شرارہ پہلی شخصیت ہیں جو اس قانون کی گرفت میں آئی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد یوسف شرارہ نہ تو امریکا میں کسی قسم کا کاروبار کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی امریکی شہری شرارہ اور اس کی کمپنی کے ساتھ کسی قسم کا لین دین کرنے کا مجاز ہو گا۔