.

’بلیر نے قذافی کو محفوظ مقام پر منتقلی کا مشورہ دیا تھا‘

معاصر لیبیا قذافی کے دور سے کہیں زیادہ غیرمحفوظ اور بدتر ہے: ٹونی بلیئر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مقتول لیڈر کرنل معمر القذافی اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات کی خبروں کی جلو میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ مسٹر بلیئر نے قذافی کو حکومت کا تختہ الٹنے سے قبل ہی کسی محفوظ مقام پر پناہ لینے اور روپوش ہونے کا مشورہ دیا تھا، تاہم کرنل قذافی اس مشورے پرعمل درآمد نہیں کر سکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ٹونی بلیئر اور کرنل معمر القذافی کے درمیان سنہ 2011ء کے دوران ہونے والی دو بار کی ٹیلیفونک گفتگو پر برطانوی پارلیمنٹ میں بھی بحث کی گئی ہے۔ لندن پارلیمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ کرنل قذافی اور ٹونی بلیئر کے درمیان سنہ2011ء میں دو بار ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی تھی۔ اس وقت کے برطانوی وزیراعظم نے کرنل قذافی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی حکومت کا تختہ الٹنے سے قبل کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں کیونکہ بغاوت کے نتیجے میں ان کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی نے کرنل قذافی اور ٹونی بلیئر کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کی پچھلے ماہ 11 دسمبر کو تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کے ضمن میں مسٹر بلیئر نے دو ٹیلیفونک کالوں کا ریکارڈ کمیٹی کو سپرد کیا تھا۔

ان ٹیلیفونک مکالموں میں ٹونی بلیئر نے واشگاف الفاظ میں کرنل قذافی سے کہا تھا کہ وہ ملک میں آنے والی تبدیلی کو کھلے دل سے قبول کر لیں۔ اگرانہیں وقت اور موقع میسر ہے تو اپنی جان بچانے کے لیے فوری طور پر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں اور بغاوت کو تشدد کے ذریعے کچلنے سے باز رہیں۔

اس پر کرنل قذافی نے کہا تھا کہ ’’میں کہاں جا سکتا ہوں۔ میرے پاس نہ تو اختیارات رہے ہیں اور نہ ہی حکومت، میں اب صدر بھی نہیں رہا۔ اب میرے پاس کوئی ایسا منصب نہیں جس سے میں سبکدوش ہو جاوں‘‘۔

پہلے ٹیلیفونک مکالمے میں کرنل قذافی کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں شمالی افریقا سے تعلق رکھنے والے القاعدہ جنگجوؤں کے حملوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے ملک میں جاری بغاوت کو ’’لیبیا کا نائن الیون قرار دیا تھا‘‘۔

دوسرے ٹیلیفونک مکالمے میں کرنل معمر قذافی نے ٹونی بلیئر سے کہا کہ وہ طرابلس کا دورہ کریں اور خود دیکھیں کہ یہاں پر کسی قسم کا تشدد نہیں ہے۔ لیبیا میں عالمی فوجی مداخلت کے امکان پر بلیر نے انہیں خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں کوئی شخص طرابلس کا دورہ نہیں کرے گا۔ یہ ٹیلیفونک مکالمے 25 فروری سنہ 2011ء کے قریب ریکارڈ کیے گئے جس کے بعد 17 مارچ کو عالمی سلامتی کونسل میں لیبیا کی حکومت کے خلاف طاقت کے استعمال کی قرارداد منظور کر لی تھی۔

خیال رہے کہ پچھلے ماہ گیارہ دسمبر کو جب برطانوی پارلیمنٹ نے ٹونی بلیئر اور کرنل قذافی کے درمیان ہوئی ٹیلیفونک بات چیت کی تحقیقات شروع کی تھیں تو بلیئر نے کمیٹی کے روبرو پیش ہو کرکہا تھا کہ موجودہ لیبیا کرنل قذافی کے دور سے کہیں زیادہ غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ لیبیا میں جاری افراتفری نے وہاں پر داعش کو اپنے پنجے گاڑھنے کا موقع فراہم کیا ہے اور حالات 20 اکتوبر2011ء کو باغیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے کرنل قذافی کے دور سے بھی بدتر ہیں۔