.

حوثی باغیوں کا مفاہمتی سیاست کے منہ پر زوردار طمانچہ

باغیوں نے یو این مندوب کی سیاسی قیدیوں سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی حکومت کے خلاف سرگرم حوثی باغیوں اور منحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں نے ملک میں جاری بحران کے حل کی خاطر کئے جانے والے مذاکرات کی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ کی سیاسی قیدیوں سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا ہے۔

صنعاء میں 'العربیہ' کے نامہ نگار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اقوام متحدہ کے امن مندوب ولد الشیخ نے حوثی باغیوں سے زیر حراست وزیر دفاع میجر جنرل محمود الصبیح، سرکردہ حکومتی رہ نماؤں اور سیاسی قیدیوں سے ملاقات کی درخواست کی تھی مگر باٰغیوں نے انہیں قیدیوں سے ملوانے سے انکار کر دیا۔

حوثی باغیوں اور علی عبداللہ صالح کے حامیوں کی جانب سے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کی بحالی کے لیے کیے گئے تمام وعدے بھی ہو میں تحلیل ہو گئے ہیں۔ باغیوں کی جانب سے یہ تعز شہر کا محاصرہ اٹھائے جانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی مگر اس کے باوجود تعز میں 37 طبی مراکز میں ادویات نہیں پہنچائی جا سکی ہیں۔

شہر کی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ باغی شہری آبادیوں پر بمباری کررہےہیں۔ پچھلے ایک سال میں حوثیوں کے راکٹ حملوں، توپخانے سے کی گئی گولہ باری اور فائرنگ میں 5 ہزار شہری اپنی جانوں سےہاتھ دھو بیٹھے ہیں جب کہ 8 ہزار سے زخمی اور معذور ہوچکے ہیں۔

درایں اثناء محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اتحادی طیاروں نے تعز میں حوثیوں کے زیرقبضہ ثعبات کالونی پربمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد باغی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ اتحادی طیاروں نے مشرقی صنعاء میں خشم البکرہ اور اِب شہر میں الحمزہ ملٹری کیمپ پر بھی بمباری کی ہے۔

'العربیہ' کے مطابق المسراخ ڈائریکٹوریٹ میں نجد قسیم بازار کے قریب باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان گھمسان کی جنگ کے بعد مزاحمت کاروں نے پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے۔

الجوف کے گورنر میجر جنرل حسین العجی العواضی نے ملٹری کیمپ 6 کا دورہ کیا اور اس شہر میں باغیوں کے خلاف جاری مشترکہ آپریشن کا جائزہ لیا۔ البیضاء شہر میں مزاحمتی کارکنوں نے حوثی ملیشیا کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد جنگجو ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

الصومعہ گورنری میں جبل العرقوب کے علاقے پر مزاحمت کاروں نے قبضہ کرتے ہوئے حوثی باغیوں کو وہاں سے باہر نکال دیا ہے۔ جھڑپوں میں متعدد حوثی ہلاک ہو گئے ہیں۔