.

دہشت گردی کے خلاف عالمی ایکشن چاہتے ہیں: پیوٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ روس باقی دنیا کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنا چاہتا ہے، تاہم انہوں نے مغرب پر الزام لگایا کہ وہ جس بھی بین الاقوامی تنازع کا حصہ بنتا ہے اس میں مزید سنگینی آجاتی ہے۔

پیوٹن نے ایک جرمن اخبار کو دئیے جانے والے انٹرویو میں کہا کہ "ہم سب کو ایک سے خطرات کا سامنا ہے ۔ ہماری خواہش ہے کہ یورپ سمیت باقی دنیا بھی ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے کوششوں کو متحد کریں اور اسی مقصد کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "میں صرف دہشت گردی کی بات نہیں کررہا بلکہ اس میں جرم، انسانی سمگلنگ، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر عام امور پر تعاون شامل ہوں گے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم اس میں دوسرے ممالک کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے۔"

روس نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی کارروائیوں کے باوجود اس نے امریکا کی سربراہی میں داعش کے خلاف سرگرم اتحاد میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ اروس شامی صدر بشار الاسد کو اقتدار میں برقرار رکھنے کے لئے کارروائیاں کررہے ہیں۔

پیوٹن کا کہنا تھا کہ مغرب کی جانب سے ماضی میں عراق اور لیبیا میں کئے جانے والے فوجی آپریشنز کی بدولت ان ممالک اور خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے نیٹو کی جانب سے روس کی سرحدوں کی جانب توسیع اور امریکا کی جانب سے ایک میزائل شکن شیلڈ لگانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کی جانب سے یہ توسیع بین الاقوامی تنازعات کو مزید ہوا دینے کی کوشش ہے۔