.

بشارالاسد کی روس میں پناہ، کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا: پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کو روس میں سیاسی پناہ دینے کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

انھوں نے یہ بات جرمن روزنامے بلد کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ ان کا یہ انٹرویو آج منگل کو شائع ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ روس شام میں آئینی اصلاحات کی وکالت کررہا ہے۔اگر آیندہ انتخابات جمہوری طریقے سے منعقد ہوئے تو پھر بشارالاسد کہیں نہیں جائیں گےاور اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ وہ صدر منتخب ہوتے یا نہیں۔

ولادی میر پوتین نے بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ماسکو کے ممکنہ کردار کے حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ ماسکو کے لیے ایسا کرنا مشکل نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم نے اسنوڈن کو پناہ دی اور یہ بشارالاسد کو پناہ دینے سے زیادہ مشکل فیصلہ تھا''۔وہ امریکا کے خفیہ راز فاش کرنے والے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کو پناہ دینے کا ذکر کررہے تھے۔ان کی حکومت کو اس فیصلے پر امریکا کی کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

واضح رہے کہ روس 30 ستمبر سے شام میں داعش اور صدر بشارالاسد کے مخالف دوسرے ''دہشت گرد'' گروپوں پر فضائی حملے کررہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں ایک تہائی عام شہری ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے دسمبر کے آخر میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ روس کے فضائی حملوں میں تب تک 2300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان میں 792 شہری تھے۔

روس امریکا،اقوام متحدہ اور دوسرے مغربی ممالک کے ساتھ مل کر شام میں گذشتہ پانچ سال سے جاری خونریز تنازعے کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے بھی کوشاں ہے۔یہ تمام ممالک شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لیے کوششیں کررہے ہیں لیکن ابھی تک متحارب فریق اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں اور ان کے درمیان بات چیت کی حتمی تاریخ پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔