.

استنبول: داعش کے خودکش بم حملے میں 10 افراد ہلاک

خطے میں فعال تمام دہشت گردوں کا پہلا ہدف ترکی ہوتا ہے: رجب طیب ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ استنبول کے وسط میں واقع تاریخی چوک میں ایک شامی خودکش بمبار نے حملہ کیا ہے۔اس کے نتیجے میں آٹھ غیرملکیوں سمیت دس افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ترک وزیراعظم احمد داوّد اوغلو نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ خودکش بم دھماکا سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ایک رکن نے کیا تھا اور وہ غیرملکی تھا۔

اس سے پہلے ترک صدر نے دھماکے کے بعد انقرہ میں تقریر کرتے ہوئے دہشت گردی کے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بدقسمتی سے مرنے والوں میں مقامی اور بعض غیرملکی شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کا مل جل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

صدر ایردوآن نے کہا کہ ''ترکی کا موقف تبدیل نہیں ہوگا۔ہم دہشت گرد گروپوں کے ناموں یا مخففات میں کوئی فرق نہیں کرتے ہیں۔اس خطے میں فعال تمام دہشت گردوں کا پہلا ہدف ترکی ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ ان کے خلاف ایک ہی عزم سے لڑرہا ہے''۔

ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے وسط میں واقع سلطان احمد اسکوائر میں مقامی وقت کے مطابق منگل کی صبح 10 بجے کے قریب بم دھماکا ہوا تھا۔استنبول کے گورنر کے دفتر نے ایک بیان میں دھماکے میں دس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔جرمن وزیرخارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بم حملے میں آٹھ جرمن سیاح مارے گئے ہیں اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔

سی این این ترک ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ سلطان احمد اسکوائر میں بم دھماکے میں جرمنی اور ناروے سے تعلق رکھنے والے سیاح بھی زخمی ہوئے ہیں۔ترکی ایک ٹور کمپنی کے ذمے دار نے بتایا ہے کہ دھماکے کے وقت اسکوائر میں جرمنی سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کا ایک گروپ موجود تھا لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ ان میں کوئی زخمی ہوا ہے یا نہیں۔

سلطان احمد اسکوائر استنبول کی مشہور نیلی مسجد اور مسیحیوں کے تارِیخی آیا صوفیہ کیتھڈرل کے نزدیک واقع ہے اور یہاں ہر وقت غیرملکی سیاحوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ گذشتہ سال ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ غیرملکی سیاح استنبول میں واقع تاریخی مقامات کی سیر کے لیے آئے تھے۔

قبل ازیں ترکی کے سرکاری ٹیلی ویژن ٹی آر ٹی نے عینی شاہدین کے حوالے سے یہ غیر مصدقہ اطلاع دی تھی کہ بم دھماکا خودکش حملے کے نتیجے میں ہوا ہے۔پولیس کو علاقے سے بعض ایسے اجزاء ملے ہیں جو خودکش بم حملوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

عینی شاہدین اور پولیس افسروں کے مطابق دھماکے کے بعد سلطان احمد سکوائر میں جابجا انسانی اعضاء بکھرے پڑے تھے۔ایک سرکاری اہلکار نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "اس حملے میں دہشت گرد عناصر کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔"

گورنر آفس کے بیان کے مطابق تحقیقات شروع کردی گئی ہیں تاکہ اس دھماکے کی نوعیت اور اس کے ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔فوری طور پر دھماکے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔ ترک پولیس نے اسکوائر کو فوری سیل کردیا ہے۔

عینی شاہدین نے العربیہ نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دھماکا اس قدر زوردار اور طاقتور تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی اور کئی سیاحوں پر سکتہ طاری ہوگیا۔ دھماکے کے نتیجے میں سڑک پر ایک میٹر گہرا گڑھا پڑ گیا۔

واضح رہے کہ ترکی میں دارالحکومت انقرہ میں اکتوبر میں دو خودکش بم دھماکوں کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ان بم دھماکوں میں ایک سو تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ترک حکام نے حالیہ ہفتوں کے دوران داعش کے متعدد مشتبہ ارکان کو گرفتار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ استنبول میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

ترکی کی سکیورٹی فورسز ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں علاحدگی پسند باغی گروپ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے مسلح جنگجوؤں کے خلاف بھی کارروائی کررہی ہیں۔ترکی اور اس کے اتحادی مغربی ممالک نے پی کے کے کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔