.

لاکھوں ڈالر مالیت سے تیار ماؤزے تنگ کا سنہری مجسمہ مسمار

مجسمہ حکومت کی اجازت کے بغیر بنایا اور نصب کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چینی حکام نے بابائے قوم ماؤزے تنگ کا نصف ملین ڈالر مالیت سے تیار کردہ سنہری مجسمہ مسمار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چینی حکام کا کہنا ہے کہ ماؤزے تنگ کے مجسمہ کی مسماری کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ جس جگہ یہ مجسمہ نصب کیا گیا تھا وہاں مجسمہ کی تنصیب سے قبل اس کی اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی اور نہ مجسمہ کی تیاری کے لیے حکومت سے لائسنس حاصل کیا گیا ہے۔

مختلف عالمی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ چینی حکام کا کہنا ہے جس گروپ نے ماؤزے تنگ کا مجسمہ تیار کیا ہے اس کا چینی حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی اس گروپ نے مجسمہ کی تنصیب کے لیے جگہ کی منظوری لی تھی اور نہ اس کا پرمٹ حاصل کیا تھا۔ حکومت کی اجازت کے بغیر ہی ماؤزے تنگ کا 24 میٹر اونچا مجسمہ تیار کر کے اسے نصب کر دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ چینیوں کے بابائے قوم ماؤزے تنگ کے یادگاری مجسمہ کی تیاری پر بھی کڑی تنقید سامنے آتی رہی ہے۔ چونکہ مجسمے پر سنہری قلعی کی گئی جس سے ماوزے تنگ کے ایک امیر راہ نما کا تاثر ابھرتا ہے۔ حالانکہ ماؤزے تنگ چین ہی کا نہیں بلکہ اپنے آبائی قصبے کا بھی غریب شخص تھا۔ ماؤزے تنگ کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ ان کے آنجہانی لیڈر نے پوری زندگی غربت اور سادگی میں بسر کی۔ ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کا سنہری مجسمہ تیار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

چین میں تیار کردہ ماؤزے تنگ کے مجسمہ کو مصر کے ابوالھول کے مجسمہ کی طرز پر بنایا گیا جس پر سنہرے پانی کی قلعی کی گئی تھی۔