.

امریکی تیل کی پیداوار بحران کا شکار، کمپنیاں دیوالیہ ہونے لگیں!

سعودی عرب کے تیل پر انحصار بڑھنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اتار چڑھاو کے نتیجے میں امریکی تیل کی صنعت سنگین بحران سے دوچار ہوئی ہے۔ تیل کی پیدوار میں کمی کے باعث امریکی آئل کمپنیاں بھی دیوالیہ ہونے لگی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 2015ء میں مقامی تیل کی پیداوار 9.4 ملین بیرل تھی جب کہ رواں سال یہ مقدار کم ہو کر 8.5 ملین بیرل یومیہ تک کم ہونے کا امکان ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی تیل کی پیداوار میں قلت کےعالمی مارکیٹ پر براہ راست اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ امریکا میں تیل کے بحران نے اس وقت مزید شدت اختیار کر لی جب چین نے تیل کی کھپت کم کر دی۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب چین کے بحران سے قبل ہی تیل کی پیداوار کو مستحکم رکھنے میں کامیاب رہا۔ چین میں تیل کی کھپت میں کمی کے باوجود پچھلے سال امریکی تیل کی پیداوار 9.4 ملین بیرل یومیہ رہی، مگر اب اس میں مزید کمی کا قوی امکان ہے۔

تیل میں شیل آئل کی پیداواری کا سعودی عرب کے تیل کی قیمت سے بہت بڑھ جانا بھی امریکا میں تیل کی پیداوارم یں کمی کا موجب بنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کی کئی بڑی آئل فرموں نے تیل کے پیداواری پلیٹ فارمز کم کر دیے اور تیل کی نکاسی کے نئے کنوؤں میں سرمایہ کاری میں بھی کمی کر دی۔

دیوالیہ ہوتی امریکی کمپنیاں

امریکی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران تین بڑے مصارف میں تیل فی بیرل 30 ڈالر سے بھی کم سطح پر رہے گا جس کے نتیجے میں امریکی تیل کمپنیوں کو ہر ہفتے 2 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا رہے گا۔ یہ کمپنیاں سنہ 2014ء کی نسبت رواں سال اپنے بجٹ میں 51 فی صد کٹوتی پر مجبور ہوں گی۔ تیل کمپنیوں کو سنہ 2017ء میں بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت منظم انداز میں موجودہ قیمت کے آس پاس رہی رہنے کی توقع ہے۔

امریکی اخبار’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ تیل کے بڑے صارفین نے خبردار کیا ہے کہ بعض امریکی آئل کمپنیاں تیل ذخیرہ کرنے پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔ یہ اس لیے نہیں کہ مارکیٹ کو تیل کی مزید ضرورت ہے بلکہ یہ حربہ قرض پر واجب الاداء سود کی ادائی کا یہ واحد راستہ ہے۔ بعض کمپنیاں تو صرف قرض اور اس پر حاصل کردہ سود کی ادائی کے لیے تیل پیدا کر رہی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکا میں تیل پیدا کرنے والی کئی کمپنیاں دیوالیہ ہو سکتی ہیں کیونکہ انہیں سنہ 2015ء کے دوران حاصل کردہ 3 کھرب 53 ارب ڈالر کا قرض اوراس کے ساتھ اس کا سود ادا کرنا ہے۔ قرض کی یہ خطیر رقم ان کمپنیوں کے لیے ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ قرض کی ادائیگی کا صرف ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 50 ڈالر فی بیرل ہو جائے۔

انرجی انفارمیشن ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات میں بھی امریکی کمپنیوں کے لیے کوئی خوش خبری نہیں۔ ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق رواں سال عالمی منڈی میں تیل کی قیمت زیادہ سے زیادہ 40 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ تاہم آئندہ سال تیل کی قیمت 50 ڈالر فی بیرل ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی کمی کا موجودہ خلاء پورا کرنا بہت سی آئل فرموں کے لیے مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اور امریکا کی کئی کمپنیاں تیل کی قیمت میں معقول اضافہ ہونے تک دیوالیہ ہو سکتی ہیں۔

رواں سال کے اگلے تین ماہ کے دوران تیل کی قیمت میں عدم استحکام رہے گا اور درمیانی قیمت 37 ڈالر فی بیرل رہے گی۔اپریل سنہ 2016ء تک تیل کی قیمت میں 25 سے 56 فی صد تک اتار چڑھاؤ رہے گا۔

سعودی تیل کے امریکی صارف

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 2015ء کے دوران تیل کی قیمت میں کمی کے نتیجے میں امریکا کو مقامی صارفین کی تعداد میں بھی کمی کا سامنا رہا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی نے امریکی صارفین کو 2 کھرب 50 ارب ڈالرکی بچت دی۔ صارفین نے یہ رقم نئی کاروں کی خریداری اور دوسرے لوازمات پر صرف کی۔ یوں امریکا میں تیل کی قیمت میں کمی نے صارفین کو غیرمعمولی فائدہ پہنچایا۔ امریکا میں یومیہ 19.37 ملین بیرل تیل کی کھپت رہی۔ رواں سال اس کی مقدار 19.53 ملین بیرل تک جا سکتی ہے جب کہ آئندہ سال تیل کی مقامی کھپت 19.81 ملین بیرل رہنے کی توقع ہے۔۔ امریکا میں مقامی تیل کی کھپت میں کمی اور ’اوپیک‘ کے رکن ممالک بالخصوص سعودی عرب کی تیل کی کھپت میں اضافہ ہوا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں امریکی صارفین کے ہاں سعودی عرب کے تیل پر انحصار مزید بڑھنے کی توقع ہے۔