.

ترکی : تین روسیوں سمیت داعش کے 13 مشتبہ جنگجو گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں پولیس نے استنبول میں خودکش بم حملے کے ایک روز بعد عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش سے وابستہ تیرہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ان میں تین روسی شہری ہیں۔

استنبول کے مشہور سیاحتی مرکز سلطان احمد اسکوائر میں منگل کے روز بم دھماکے میں آٹھ جرمن شہریوں سمیت دس افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے تھے۔زخمیوں میں بھی نو جرمن شہری تھے۔داعش نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کی تھی لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ آیا حملہ آور نے جرمن سیاحوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا تھا۔

ترک حکام نے بمبار کی شناخت شامی شہری کے طور پر کی ہے۔وہ 1988ء میں پیدا ہوا تھا اور حال ہی میں ترکی میں داخل ہوا تھا لیکن اس کا نام ترکی کو مطلوب مشتبہ بمباروں کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔ترک میڈیا اور حکومت کے قریب اخبارات نے اس کا نام نبیل فاضلی بتایا ہے اور بعض نے لکھا ہے کہ وہ سعودی عرب میں پیدا ہوا تھا۔

ترک وزیرانصاف بکر بزداغ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ حکام اس حملہ آور سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی شناخت کے لیے کام کررہے ہیں۔انھوں نے تحقیقات کی تفصیل نہیں بتائی ہے اور کہا ہے کہ اس سے مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔

مشتبہ روسیوں کو ترکی کے بحر متوسط کے کنارے شہر اناطالیہ سے گرفتار کیا گیا ہے لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ آیا ان کی گرفتاری کا استنبول میں دہشت گردی کے واقعے سے کوئی براہ راست تعلق ہے یا نہیں۔

سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق مشتبہ افراد جنگ زدہ علاقوں میں موجود داعش کے جنگجوؤں سے رابطے میں تھے اور انھوں نے گروپ کو لاجسٹیکل مدد مہیا کی تھی۔دس دوسرے افراد کو ترکی کے تیسرے بڑے شہر ازمیر اور وسطی شہر قونیہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

روس کی وزارت خارجہ نے نومبر میں اطلاع دی تھی کہ شام میں 2719 روسی شہری داعش کی جانب سے لڑنے کے لیے گئے تھے۔ان میں سے 160 ہلاک ہوچکے ہیں،73 وطن واپس آگئے تھے اور ان کے خلاف مقدمات چلائے گئے ہیں اور 36 کو گرفتار کیا گیا ہے۔